“نعمت “
(حصہ دوئم گذشتہ سے پیوستہ)
ہر نعمت کے حقیقی شکر کے لئے چار چیزیں ضروری ہے
1- نعمت کی معرفت:
2- نعمت دینے والے کی معرفت:
3- اس کا شکریہ اور سپاس:
4- نعمت کو نعمت دینے والے کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا
3- اس کا شکریہ اور سپاس:
انسان ہونے کی نشانی یہ ہے کہ پروردگار کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا کریں، پروردگار نے ہمیں بےشمار نعمتیں عطا کیں ہیں۔
صحیفہ سجادیہ میں منقول امام سجاد(ع) کی دعاء: آپ کا ارشاد ہے کہ “اگر پروردگار نے ہم سے معرفت اور شکر کی نعمت چھین لی ہوتی تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ اللّٰہ کے بندے اس کی نعمت کو استعمال تو کرتے مگر اس کی حمد و ثناء نہ کرتے اور یہی وہ مقام جہاں انسان، انسانی دائرے سے نکل کر حیوانی حدود میں داخل ہوجاتا ہے “۔
اللّٰہ کی نعمتوں کا تذکرہ دراصل اس کے شکر، توحید کے اقرار اور عبادت کا جذبہ پیدا کرتا ہےاور یہی اخروی کامیابی کا حقیقی سبب ہے۔
حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) فرماتے ہیں:
"نِعمَةٌ لا تُشكَرُ كَسَيِّئةٍ لا تُغفَرُ” (سیرالائمه، ج 4، ص 171۔)،
"جس نعمت کا شکر ادا نہ ہو، وہ ایسے گناہ کی طرح ہے جو معاف نہیں ہوتا”۔
نیز آپؑ فرماتے ہیں”:
لايَنقطِعُ المزيدُ مِن اللهِ حَتّي يَنقَطِعَ الشُّكْرُ مِنَ العِبادِ” (تحفالعقول، ص 480۔)،
"اللّٰہ کی طرف سے (نعمتوں میں) اضافہ رکتا نہیں، یہاں تک کہ بندوں کا شکر رک جائے”۔
وضاحت: عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ شکر زبان سے ہوتا ہے، جبکہ شکر صرف زبان تک محدود نہیں بلکہ شکر کی تین قسمیں ہیں:
پہلا مرحلہ یہ ہے کہ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ نعمت دینے والا کون ہے اور اس کی طرف توجہ کریں،
دوسرا مرحلہ زبانی شکر ہے،
تیسرا مرحلہ عملی شکر ہے،
یعنی اس بات پر غور و خوض کریں کہ ہر نعمت ہمیں کس مقصد سے عطا کی گئی ہے اور اس نعمت کو اسی مقصد تک پہنچنے کے لئے استعمال کریں، اگر ایسا نہ کیا تو کفران نعمت اور ناشکری کریں ۔ مثال کے طور پر آنکھیں جو اللّٰہ تعالی کی اتنی عظیم نعمت ہیں،
اللّٰہ نے آنکھیں کیوں عطا کی ہیں؟
اس لیے کہ لوگ ان آنکھوں سے اللّٰہ کی مخلوقات کو دیکھیں اور ان میں غور و فکر کریں، واقعات کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں، جن چیزوں کو دیکھنا ثواب کا باعث ہے، ان کو دیکھ کر اللّٰہ تعالی سے ثواب حاصل کریں، لیکن آنکھوں سے گناہ کرنے والا آدمی اللّٰہ کی اس بڑی نعمت کی ناشکری کرتا ہوا نہ اس بات پر توجہ کرتا ہے کہ اس کو یہ نعمت دینے والا کون ہے تو کیسے نعمت دینے والے کی معرفت حاصل کرے گا،
نہ زبان سے اللّٰہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اللّٰہ تعالی نے اسے دو آنکھیں صحیح و سلامت عطا فرمائی ہیں، نہ ان آنکھوں کو اس مقصد کے لئے استعمال کرتا ہے جس مقصد کے لئے اللّٰہ نے خلق کیا ہے تو آنکھوں سے جو عمل ممکن ہے، ان آنکھوں سے عملی شکر بجا نہیں لاتا۔
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں
(علامہ اقبال)
اسی طرح اللّٰہ کی عطا کی ہوئی تمام نعمتوں کے بارے میں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ انسان کو یہ نعمتیں دے کر پروردگار نے آزاد نہیں چھوڑ دیا، بلکہ اسے ان نعمتوں کے بدلہ میں کچھ ذمہ داریاں ادا کرنی ہیں۔
لہذا نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہیے ورنہ نعمتیں چھن جائیں گی اور اگر آدمی شکر کرتا رہے تو نعمتیں بڑھتی رہیں گی اور اس میں اضافہ کا سلسلہ رکتا نہیں مگر یہ کہ آدمی شکر کرنا روک دے۔
حق نعمت ادا نہیں ہوتا
ہم سے شکر خدا نہیں ہوتا
4- نعمت کو نعمت دینے والے کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا:
”اسلام” اور ’شکر‘ ہم معنی اور مترادف الفاظ ہیں۔ اسلام اللّٰہ تبارک و تعالیٰ کی اطاعت و فرمانبرداری کا نام ہے۔ اور شکر اللّٰہ کے احسانات کا اعتراف کرنے اور اس کے نتیجہ میں احسان مند ہونے کا نام ہے۔ اور ان دونوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان زندگی کے تمام ہی معاملات میں اپنے آپ کو مرضیِ الٰہی کا تابع بنا دے۔
اللّٰہ تبارک و تعالیٰ نے اسلام کے نام سے ایک بہت ہی قیمتی نعمت ہمیں عطا کی ہے۔ اس نعمت عظمیٰ کا ذکر اور اس کا اظہار ہم سب پر فرض ہے۔ ایسا کرنا عین شکر ہے، اور اس میں کوتاہی کرنا اور اس سے احتراز برتنا کفر کرنے کے مترادف ہے۔ اظہار دین ہی ایک مومن کا نصب العین ہونا چاہیے۔
جو نعمت اللّٰہ نے عطا کی ہے وہ اللّٰہ کی مڑضی کے مطابق استعمال کرنا یعنی اگر ہم صرف اپنے جسم پہ غور کریں
ہاتھ، پیر، آنکھیں، کان، زبان ان سب کو اسی طرح استعمال کرنا جیسا اللّٰہ چاہتا ہے کیونکہ قیامت میں یہ اعضاء گواہی دیں گے کہ ہم نے ان سے کیا کام لیا
یَّوۡمَ تَشۡہَدُ عَلَیۡہِمۡ اَلۡسِنَتُہُمۡ وَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ اَرۡجُلُہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ سورہ النور/(24))
اس دن ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان سب اعمال کی گواہی دیں گے جو یہ کرتے رہے ہیں۔
کیونکہ یہ اللّٰہ کی عطا ہے جب ہم اس کی طرف پلٹیں گے تو یہ نعمتیں اپنے مالک کو اپنا استعمال بتائیں گی
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

شکر بہت ہی عمدہ جذبہ ہے۔
پسند کریںLiked by 1 person