إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
28 صفر رسول اللّٰہٌ اور امام حسنٌ کی شہادت کے موقع پہ معصومہ بی بی فاطمہ زہراٌ، رسول اللّٰہٌ، خانوادہ رسولٌ اور خصوصاً وقت کے امام۔ امام زمانہ عج کو اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو تعزیت پیش کرتے ہیں
اے امتیوں روؤ کہ یہ فصل عزاء ہے
اس ماہِ صفر میں سفرِ خیرالورا ہے
سادات میں فریاد ہے شیون ہے بُکا ہے
عاشور محرم سے فزوں حشر بپا ہے
اک اور قیامت بھی اسی روز ہوئی ہے
شبرٌ کی شہادت بھی اسی روز ہوئی ہے
“شہادت رسول اللّٰہٌ”
سنہ 11 ہجری کے ابتدائی مہینوں میں رسول اللّٰہ م زہر کے اثرات کی وجہ سے بیمار ہوئے۔ جب آپ کی بیماری شدت اختیار کرگئی تو منبر پر رونق افروز ہوئے اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مہربانی کی سفارش فرمائی اور فرمایا:
اگر کسی کا مجھ پر کوئی حق ہے تو وہ مجھ سے وصول کرے یا بخش دے اور میں نے کسی کو آزردہ کیا ہے تو میں تلافی کے لئے تیار ہوں۔[ابن سعد، ج2، ص255۔]
صحیح بخاری کی نقل کے مطابق رسولخداٌ کے آخری ایام میں آپ کے اصحاب عیادت کیلئے موجود تھے ۔آپ نے ان سے فرمایا : قلم اور کاغذ لاؤ تا کہ میں تمہارے لئے ایسی چیز لکھ دوں جس کی برکت سے تم کبھی گمراہ نہیں ہو گے ۔حاضرین میں سے بعض نے کہا :بیماری نے پیغمبر پر غلبہ کر لیا ہے جس کی وجہ سے وہ ہذیان کہہ رہے ہیں۔ہمارے پاس قرآن ہے اور وہ ہی ہمارے لئے کافی ہے ۔
صحابہ کے درمیان اختلاف ہوا اور شور وغوغا بلند ہوا بعض کہہ رہے تھے کاغذ اور قلم لائیں بعض نفی کر رہے تھے ۔ یہانتک کہ رسول اللّٰہ نے کہا:
اٹھ جاؤ اور میرے قریب سے چلے جاؤ۔[بخاری،صحیح بخاری، جلد ۶، باب مرض النّبیؐ و وفاتہ، ص ۱۲، چاپ دارالجیل بیروت۔]
صحیح مسلم میں اس شخص کا نام لیا گیا جس نے کہا تھا کہ رسول ہذیان کہہ رہا ہے ۔بخاری اور مسلم میں یہ بھی مذکور ہے کہ ابن عباس مسلسل افسوس کرتے رہتے اور اسے ایک بہت بڑی مصیبت کہتے تھے۔[صحیح مسلم، ج ۳، کتاب الوصیہ، باب ۵، ص ۱۲۵۹، چاپ داراحیاء التراث العربی۔]
روایت کے مطابق پیغمبر اکرمؐ اسی سال 28 صفر سنہ 11ہجری جیسا کہ نہج البلاغہ میں مذکور ہے شہادت کے وقت آپ کا سر امام علی(ع) کے سینے اور گردن کے درمیان تھا۔[نہج البلاغہ، ترجمہ سیدجعفر شہیدی، خطبہ 202، ص237۔]
آپٌ کے جسم مطہر کو حضرت علی(ع)نے اپنے خاندان کے چند افراد کے ساتھ مل کر غسل اور کفن دیا اور مسجد النبی میں موجود آپ کے اپنے گھر میں سپرد خاک کیا
شہادت امام حسنٌ
امام حسن کو زہر دیا گیا
جعدہ بنت اشعث امام حسن کی زوجہ تھی ، معاویہ نے اسے ایک لاکھ درہم بھیجا اور پیغام بھیجا کہ اگر امام حسن کو زہر دیدوگی تو تمہاری شادی اپنے بیٹے یزید سے کردوں گا، جعدہ نے معاویہ کی یہ پیش کش قبول کر لی اور امام حسن کو زہر دیدیا ۔ امام حسن زہر کھانے کے بعد چالیس دن بیمار اور صاحب فراش رہے، آخر ماہ صفر میں آپ کی شہادت واقع ہوئی ۔ (کشف الغمہ ،ج٢،ص ١٦٣)
امام حسن کی تجہیزوتکفین
الغرض امام حسنٌ کی شہادت کے بعدامام حسینٌ نے غسل وکفن کاانتظام فرمایااورنمازجنازہ پڑھی گئی امام حسنٌ کی وصیت کے مطابق انہیں سرورکائناتٌ کے پہلومیں دفن کرنے کے لیے اپنے کندھوں پراٹھاکر لے چلے ابھی پہنچے ہی تھے کہ بنی امیہ خصوصامروان وغیرہ نے آگے بڑھ کر پہلوئے رسول میں دفن ہونے سے روکااورحضرت عائشہ بھی ایک خچرپرسوارہوکر آپہنچیں ،اورکہنے لگیں یہ گھرمیراہے میں توہرگزحسنٌ کواپنے گھرمیں دفن نہ ہونے دوں گی (تاریخ ابوالفداء جلد ۱ ص ۱۸۳ ،روضة المناظرجلد ۱۱ ص ۱۳۳)
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہوذکرالعباس ص ۵۱) ۔
وہ ایک نہ مانیں اورضدپراڑی رہیں ،یہاں تک کہ بات بڑھ گئی، آپ کے ہواخواہوں نے آل محمدپرتیربرسائے ۔
پھر زخم ہوگیا کوئی تازہ، الہٰی خیر!
پھر گھر کو آرہا ہے جنازہ، الہٰی خیر!!
کتاب روضة الصفا جلد ۳ ص ۷ میں ہے کہ کئی تیرتابوت میں پیوست ہوگئے ۔ کتاب ذکرالعباس ص ۵۱ میں ہے کہ تابوت میں سترتیرپیوست ہوئے تھے۔ (تاریخ اسلام جلد ۱ ص ۲۸ میں ہے کہ ناچارنعش مبارک کوجنت البقیع میں لاکردفن کردیاگیا)
جنازے پر تیر بارانی
کیا زہر کم تھا، تلخ کلامی کے واسطے؟
اَبِ تیر آرہے ہیں سلامی کے واسطے
محدث قمی نے مناقب بن شہر آشوب کے حوالے سے لکھا ہے کہ جنازہ ٔامام حسن پر تیر بارانی بھی ہوئی اور دفن کے وقت ستر تیر آپ کے جسد مبارک سے نکالے گئے ۔ (انوارالبہیہ ،ص٨٣)
ۚ أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ
ظالمین پر خدا کی لعنت ہے
(سورہ ھود کی آیت 18 کا حصہ)
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

