شہادت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام

“شہادت امام علی رضا ابن موسیٰ کاظم علیہ السلام”

30 صفر 203 ہجری۔
امام علی رضا علیہ السلام کی شہادت کے موقع پہ رسول اللّٰہ ص خانوادہ رسول ع اور خصوصاً وقت کے امام۔ امام زمانہ عج کو اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو تعزیت پیش کرتے ہیں

مأمون نے امام کو کیوں قتل کروایا؟
اس حوالے سے مختلف علل و اسباب ذکر کئے گئے ہیں:
مختلف ادیان و مذاہب کے دانشوروں کے ساتھ ہونے والے مناظروں میں امامؑ کی برتری اور فوقیت؛
۱- امام رضاؑ کی اقتداء میں نماز عید ادا کرنے کیلئے لوگوں کا جوق در جوق شرکت؛ اس واقعے سے مامون بہت خائف ہوا اور سجھ گیا تھا کہ امام رضاؑ کو ولیعہد بنانا اس کی حکومت کیلئے کس قدر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے اس نے امامؑ کی نگرانی کرنا شروع کیا کہ کہیں اس کے خلاف کوئی اقدام نہ کرے۔
۲- دوسری طرف سے امامؑ مامون سے کسی خوف و خطر کا احساس نہیں فرماتے تھے اسی وجہ سے اکثر اوقات ایسے جوابات دے دیتے تھے جو مامون کیلئے سخت ناگوار گذرتے تھے۔ یہ چیز مامون کو امام کے خلاف مزید بھڑکانے اور امام کے ساتھ مامون کی دشمنی کا باعث بنتی تھی اگرچہ مامون اس کا برملا اظہار نہیں کرتا تھا۔ چنانچہ منقول ہے کہ مأمون ایک عسکری فتح کے بعد خوشی کا اظہار کر رہا تھا کہ امامؑ نے فرمایا: اے امیر الممؤمنین! امت محمد اور اس چیز سے متعلق خدا سے ڈرو جسے خدا نے تیرے ذمے لگائی ہے، تم نے مسلمانوں کے امور کو ضائع کر دیا ہے۔ … [جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، عطاردی، 1413،مسند الامام الرضا، ص 84-85.]

انکار کرنے والے مٹائیں گے کس طرح
تاریخ کے افق پہ طلوع و غروب ہے

‎لقب رضاْ کی وضاحت۔
‎ہمارے ائمہ علیہ السلام کے نام، لقب اور کنیت میں ایک خاص پیغام ہوتا ہے ( مثلاً سجاد (ع)، باقر(ع)، صادق (ع) وغیرہ )
ابن جریر طبری نے سال ٢١ھ کے واقعات کے ضمن میں لکھا ہے کہ اس سال مامون رشید نے امام علی بن موسیٰ بن جعفر(ع) کو اپنا ولی عہد مقرر کیا اور ان کو ”الرضا من آلِ محمد (ع) ” کے نام سے مخصوص کیا۔
البتہ ابن خلدون نے ”الرضا ” کی جگہ ”الرضی ” تحریر کیا ہے۔ لیکن محمد جواد معینی (مترجم) کتاب ” امام علی بن موسیٰ (ع) الرضا (ع)” نے مختلف روایات کی روشنی میں یہ دلیل دی ہے کہ اس لقب کا ولی عہدی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مامون رشید کے وزیر خاص فضل بن سہل نے امام کے نام اپنے تمام پیغامات میں الفاظ ” بعلی بن موسیٰ الرضا (ع) ” سے مخاطب کیا ہے جو اس لقب کی قدامت پر دلیل ہے۔
اس کے علاوہ ابوالحسن ، ابو علی اور ابو محمد آپ (ع) کی کنیت ہیں۔ امام (ع) کے رضا (ع) کے علاوہ اور بھی القاب ہیں جنہیں سراج اﷲ ، نور الھدیٰ ، سلطان انس وجن، غریب الغربا اور شمس الشموس وغیرہ ہیں جو آپ کی زیارتوں میں شامل ہیں۔

اَلسَّلامُ عَلَیکَ یا غَریبَ الغُرَباء
اَلسَّلامُ عَلَیکَ یا مُعینَ الضُّعَفاءِ وَ الفُقَراء
اَلسُّلطانَ اَبَاالحَسَنِ عَلیَّ بنَ موُسَی الرِّضا وَ رَحمَةُ اللهِ وَ بَرَکاتُهُ

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں