”ٹوہ لینا، تجسس اور جاسوسی کرنا “

(آجکل ایک مسئلہ بہت سننے میں آرہا ہے لوگ ایک دوسرے کی ٹوہ لینے کے لیے کبھی فون اور دوسرے آلات کی مدد لے رہے ہوتے ہیں اور کبھی فیس بک کی پرسنل وال پہ جاکے ۔ اور بہت فخر سے چار افراد میں اس کا تذکرہ کرتے ہیں اس بارے میں ایک کوشش )

”ٹوہ لینا، تجسس اور جاسوسی کرنا “

ہمارے ہاں یہ بیماری بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے،
ہم لوگ بچوں کی تعلیم پہ تو بہت دھیان دیتے ہیں اور خرچہ کرتے ہیں مگر انسانیت کا درس اور تربیت نہیں کرتے
اللّٰہ تعالیٰ اور ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسروں میں خامیاں تلاش کرنے سے سختی سے منع کیا ہے

(شریعت میں) مسلمان کے بارے میں بُری سوچ رکھنے کی ممانعت آئی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ لوگوں کے راز ڈھونڈنے کی بھی سخت ممانعت آئی ہے؛
کیونکہ اس کےسنگین نتائج میں سے ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اس ٹوہ لگانے والے کا دل صرف گمان پر ہی اکتفاء نہیں کرتا بلکہ وہ اپنے گما ن کی تحقیق پر مجبور ہوجاتا ہےاور ٹوہ میں لگ جاتا ہے، اس طرح وہ دونوں گناہوں کا بوجھ ایک ساتھ ہی اپنے اوپر اٹھالیتا ہے۔
اسی لئے ان دونوں (برائیوں ) کی ممانعت ایک ہی آیت میں
اللّٰہ نے بیان فرمائی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَحِيمٌ
( الحجرات / 12 )
ایمان والو اکثر گمانوں سے اجتناب کرو کہ بعض گمان گناہ کا درجہ رکھتے ہیں اور خبردار ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو اور ایک دوسرے کی غیبت بھی نہ کرو کہ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے اس سے تو تم نفرت کرتے ہو اور اللّٰہ سے ڈرو، اللّٰہ یقینا بڑا توبہ قبول کرنے والا، مہربان ہے۔

اللّٰہ تعالی نے گھر میں داخل ہونے کے لئے اجازت مانگنے کا حکم دیا ہے تاکہ (داخل ہونے والا اچانک داخل ہوکر) راز کو نہ جان سکے بلکہ ان کے رازوں اور عیبوں کی حفاظت ہو سکے۔
اسی لئے بغیر اجازت گھر میں داخل ہونا منع ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتًا غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّىٰ تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَىٰ أَهْلِهَا ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
(سورہ النور/27)
ایمان والو خبردار اپنے گھروں کے علاوہ کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا جب تک کہ صاحبِ خانہ سے اجازت نہ لے لو اور انہیں سلام نہ کرلو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے کہ شاید تم اس سے نصیحت حاصل کرسکو

قرآن کی یہ آیت ایک کھلا ہوا پیغام ہے
کسی کے گھر میں داخل ہونے کا راستہ دروازہ ہو چھپ کے سُن گُن لینا یا کسی کو گروپ میں دیکھ کے اسکی پرسنل وال کی چیکنگ کرنا اور مزید دوسروں سے ان کے بارے میں پوچھنا
یا پھر غلط گمان میں مبتلا ہونا یہ سب اس آیت سے واضح ہے
مزید وضاحت کہ آیت میں ذکر ہے:
حَتّٰی تَسۡتَاۡنِسُوۡا:
جب تک اُنس پیدا نہ کرو۔
یعنی گھر والے باہر سے آنے والے سے غیرمانوس نہ ہوں۔
گھر میں دفعتاً داخل نہ ہوں جب تک اجازت کے ساتھ گھر والوں میں آنے والے کو قبول کرنے کے لیے آمادگی نہ ہو۔
آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ حتی تستاءذنوا جب تک اجازت نہ لو۔ اذن لینے اور اُنس لینے میں فرق یہ ہے:
اذن تو انسان ناگواری کی حالت میں رہتا ہے کہ کوئی بے وقت آیا ہے تو دروازے سے واپس کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا
لیکن اُنس اس حالت کو کہتے ہیں جس میں گھروالوں میں پوری آمادگی پائی جاتی ہے کہ آنے والے کا استقبال کریں۔

ذٰلِکُمۡ خَیۡرٌ لَّکُمۡ:
یہی تمہارے حق میں بہتر ہے
یہ آداب، یہ تہذیب خود ہمارے لیے بہتر ہے جس سے ہمارا پردہ اور ہمارے راز محفوظ رہتے ہیں اور ہمارے گھر کی چاردیواری کی آزادی بھی متاثر نہیں ہوتی۔
‎گھر کی چار دیواری کا تحفظ و احترام آدمیت کا تحفظ ہے

جو بندہ کسی دوسرے بندے کی دنیا میں ستر پوشی کرتا ہے،
اللّٰہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی پردہ پوشی کرے گا

ہوتا ہے وہی محوِ نظارہِ تجسس
جس شخص کے ہاتھوں میں ہنر کچھ نہیں ہوتا
(روبی)

ہماری اولادوں کو اور اس قوم کو تعلیم سے زیادہ تربیت کی ضرورت ہے،
پروردگار نے قلم اور کاغذ کی طاقت دی ہے تو اس کا حق ادا کرنے کا ارادہ کیا ہے اور یہ انبیاء اور ہمارے آئمہْ کی سنت بھی ہے۔
دعا ہے کہ پروردگار استقامت اور ہمت دے۔
آمین رب العالمین

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں