”مومن “


مومن وہ ہیں جس کا ہر آنے والا دن گزرے دن سے بہتر ہو

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ۚ
﴿ سورہ الأنفال/۲﴾
مومن تو صرف وہ ہیں کہ جب اللّٰہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔

‎ذکر وہ ہے جس سے دلوں میں لرزہ آئے اور مؤمن وہ ہے جو اس قسم کا ذکرکرے:
اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ ۔۔۔۔
‎مؤمن کا ایمان ارتقا پذیر ہوتا ہے۔ وہ ہمیشہ غور و فکر میں ہوتا ہے:
زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا ۔۔۔۔

‎ یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
‎قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
(علامہ اقبال)

ہر آنے والا دن زندگی کا خالی نیا صفحہ ہوتا ہے جو ہمارے لیے ایک رحمت سے کم نہیں اسے ہم کیسے شروع کرتے ہیں
کیسے تمام دن میں رنگ بھرتے ہیں؟
اس کا ہمیں پورا صحیح ادراک ہونا چاہئے۔
ہماری نیک نیتی ہی ہمارے ہر کام کو آسان اور خوشگوار بنا دیتی ہے
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:
“ہمارا آنے والا کل اگر گزشتہ کل کے برابر ہے وہ دن دھوکے کا ہے،
آنے والا کل گزشتہ کل سے برا ہے وہ دن ملعون ہے،
جو آنے والے کل میں ہم نے کوئی نیا عمل نہیں کیا تو وہ خسارے کا دن ہے ”

عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے
(علامہ اقبال)

مومن کا ہر دن پہلے دن سے بہتر ہونا چاہئے

‎کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
‎مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق
(علامہ اقبال)

پروردگار 🤲 ہم سب کو سچا مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں