ایک سوال بہت زیادہ کیا جاتا ہے کہ
عورت فتنہ ہے اسکا کیا مطلب ہے؟
جبکہ وہ ماں ہے بہن ہے بیوی ہے بیٹی ہے
اس سوال کا جواب دینے سے پہلے ہمیں یہ جاننا ضروری ہے کہ لفظ ” فتنہ” کا معنی کیا ہے؟
چنانچہ یہ لفظ قرآن اور حدیث میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے لیکن زیادہ تر اس کا استعمال ” امتحان و آزمائش” کے معنی میں ہوا ہے،
اور ہمیں نہیں معلوم کہ جو لوگ اسلام پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ عورت کو فتنہ قرار دیتا ہے، تو وہ اس لفظ” فتنہ” کا معنی جانتے بھی ہیں یا نہیں،
اور قرآن پڑھتے بھی ہیں یا نہیں؟
چنانچہ قرآن واضح طور پر ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کہ انسان اپنی زندگی میں جتنے بھی حالات کا سامنا کرتا ہے خواہ اچھے ہوں یا برے، تو وہ سب فتنہ یعنی آزمائش و امتحان ہیں،
چنانچہ اللّٰہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَنَبْلُوكُم بِالشَّرِّ وَالْخَيْرِ فِتْنَةً﴾
(الأنبياء:35)
اور ہم تو اچھائی اور برائی کے ذریعہ تم سب کو آزمائیں گے۔
﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَأَنَّ اللَّهَ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾(الأنفال: 28)
ترجمہ: اور جان لو کہ یہ تمہاری اولاد اور تمہارے اموال ایک آزمائش ہیں اور خدا کے پاس اجر عظیم ہے
لہذا عورت فتنہ ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت مرد کے لیے آزمائش و امتحان ہے،کہ
کیا مرد اپنے رب و پروردگار کی اطاعت و فرمانبرداری سے غافل ہو کر اپنا پورا وقت عورت کے لیے صرف کرے گا؟
کیا وہ مرد، عورت کی خاطر اللّٰہ تعالی کی نافرمانی کرے گا؟
یا پھر وہ اپنے اللّٰہ سے ڈرے گا
لہذا حقیقت یہ ہے کہ
عورت کو فتنہ کہنے میں کسی قسم کی بھی عورت کی کوئی توہین نہیں ہے،
اسی طرح سے مرد بھی عورت کے لیے امتحان وآزمائش ہے، چنانچہ کوئی شخص بہت خوبصورت اور مالدار ہو لیکن وہ پابند شریعت نہ ہو، ایسا شخص کسی عورت کو شادی پیغام دے،
آیا وہ عورت اس کی خوبصورتی یا دولت کی طرف راغب ہو کر اسے شوہر قبول کرے گی؟
یا پھر وہ یہ اپنے دماغ میں رکھے گی کہ وہ ایک امتحان و آزمائش میں ہے لہذا وہ صرف ایسے ہی شخص سے شادی کرے گی جو پابند شریعت ہو؟
اللّٰہ نے تو اولاد کو بھی فتنہ بتایا ہے،
تو کیا اس میں اولاد کی توہین ہے؟
یقیناً بالکل نہیں،
کیونکہ جب ہمیں یہ معلوم ہے کہ فتنہ کے معنی امتحان و آزمائش ہیں، تو اس لحاظ سے فتنہ کا اطلاق سب پر صحیح ہے
جیسا کہ اللّٰہ نے اس آیت میں ذکر کیا ہے:
﴿وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً أَتَصْبِرُونَ﴾(الفرقان 20)
اور ہم نے بعض افراد کو بعض کے لئے وجہ آزمائش بنادیا ہے تو مسلمانو ! کیا تم صبر کرسکو گے۔
لہذا ، ہم میں سے ہر ایک اپنے آس پاس والے کے لیے آزمائش (فتنہ) ہے۔
(اقتباس)
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
(منور)
قرآن اور سنت سے جو کچھ ہمیں ملتا ہے وہ یہی ہے کہ عورت لطیف اور رحمت ہے.
عورت ہیں مگر صورتِ کہسار کھڑے ہیں
اک سچ کے تحفظ کے لیے سب سے لڑے ہیں
(فرحت)
”وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
