دنیا میں بہت کم لوگ "محمدٌُ” کی معرفت رکھتے ہیں. سب ہی انھیں "رسول اللّٰہ ” کے لباس میں دیکھتے اور دیکھنا چاہتے ہیں.
ہمیں کبھی خود "ذات محمد” کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے.
(بس یہ ایک فکر ہے جس کو کوشش کریں گے کہ ہم سب مل کے رسول اللّٰہ کو بذاتِ محمدٌ پہنچانیں اسی فکر کو سامنے رکھتے ہوئے ہر سال کی طرح آج سے سترہ ربیع الاول تک روز حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ تحریر )
(ان شاء اللّٰہ)
حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف رسول اللّٰہ یا محمدٌ بھی!
رسولٌ تھے تو اعلی تھے یا اعلی تھے تو رسولٌ بنائے گئے؟
انسان اپنے نفس کی تربیت کرتے کرتے لقاء الہی کی منزل پر پہنچ جاتا ہے
"وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ﴿القلم/ ۴﴾”
یہی منزل نبوت و رسالت کہلاتی ہے.
یہ آیہ مبارکہ اللّٰہ کی طرف سے بنی کریم صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کے خلق عظیم پر فائز ہونے کا اعتراف ہے.
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان زندگی بھر خلق عظیم تک پہنچنے کی کوشش کرتا رہے جب اللّٰہ کی نظر میں وہ ایسا ہو جاتا ہے تو اللّٰہ اسے نبوت کے لیے چن لیتا ہے.
”اَللّٰہُ اَعۡلَمُ حَیۡثُ یَجۡعَلُ رِسَالَتَہٗ.“
(سورہ انعام/ آیت 124 کا ایک حصہ)
اللّٰہ (ہی) بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کہاں رکھے۔
امیرِ کاروانِ زیست امام الانبیاء تم ہو
خدا کے خاص پیغمبر محمد مصطفیٰ تم ہو
(ڈاکٹر افسر )
"وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ﴿القلم/ ۴﴾”
اور بے شک آپ اخلاق کے عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔
تفسیر آیات
یہ آپٌ کا عظیم اخلاق ہے کہ آپ کی شان میں انتہائی نامناسب جسارت ہوتی ہے، ان تمام اہانتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آپ کے پاس خلق عظیم ہے۔
اچھا اخلاق، اعلیٰ نفسیات کا مالک ہونے کی علامت ہے اور فکر و عقل میں اعلیٰ توازن رکھنے والا ہی اعلیٰ نفسیات کا مالک ہوتا ہے۔ خلق عظیم کا مالک ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عقل عظیم کا مالک ہے۔ اس طرح مخلوق اول، عقل ہو یا نور محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم،
بات ایک ہی ہے۔ آپ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے:
اِنَّمَا بُعْثِتُ لِاُتَمِّمَ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ۔
(مستدرک الوسائل ۱۱: ۱۸۷)
میں اخلاق حمیدہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔
لہٰذا جو ذات اخلاق حمیدہ کی تکمیل کے لیے مبعوث ہوئی ہے وہ خود اخلاق حمیدہ ہی کی تکمیل کا مظہر نہ ہو گی بلکہ الٰہی اخلاق کا بھی مظہر ہو گی۔
(تفسیر الکوثر)
ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
ٱللَّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی”
