”صادق و امین“

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم صرف رسول اللّٰہ یا محمدٌ بھی!
(دوسری پوسٹ)

“ صادق و امین “

ہدایت کا حصول ہمیشہ انسان کی ضرورت رہی کیونکہ ہدایت یافتہ افراد دنیا میں بھی کامیاب رہتے ہیں اور آخرت میں بھی سچی بات یہ بھی ہے کہ ہدایت یافتہ افراد معاشرہ کی بھی بنیادی ضرورت ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاشرہ سے برائیوں اور لاقانونیت کے خاتمہ میں صالح افراد مثبت کردار ادا کرتے ہیں ایسے افراد جو اپنے نفس پر دوسروں کو مقدم رکھتے ہوں اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہوں وہ معاشرہ کے لئے مفید شہری ثابت ہوتے ہیں
جس معاشرہ میں افراد جھوٹ نہیں بولتے‘ کم نہیں تولتے‘ دغا نہیں کرتے‘ بددیانتی سے بچتے ہیں‘ کسی کا حق نہیں مارتے بلکہ دوسروں کے حقوق کا خیال کرتے ہیں رواداری سے کام لیتے ہیں۔ ایثار کا جذبہ رکھتے ہیں، معاف کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، اپنے غصے پر قابو رکھتے ہیں،
اس معاشرہ میں خودغرضی پروان نہیں چڑھتی بلکہ وہاں احساس مروت پیدا ہوتا ہے۔ عدل کا بول بالا ہوتا ہے جہاں عدل کا راج قائم ہو جائے وہاں سے کرپشن لاقانونیت اور بدامنی بھاگ جاتی ہے ہم مسلمان ہیں ہمارے پاس حصول ہدایت کے لئے قرآن حکیم اور اسوہ حسنہ کی روشنی موجود ہے یہی روشنی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ہم نبی کریم کے امتی ہیں آپ کو جوانی میں ہی صادق اور امین کے لقب سے پکارا جانے لگا تھا (اقتباس)

لغت میں صادق کے معنی سچا اور امین کے معنی امانت دار بتائے گئے ہیں۔ اس لحاظ سے ایسے شخص کو جو ہمیشہ سچ بولتا ہو اور امانتوں میں خیانت نہ کرتا ہو، صادق اور امین کہنا درست ہے۔ اس میں کوئی شرعی قدغن نہیں
لیکن علمی نکتہ یہ بھی ہے کہ یہ اصطلاح سب سے پہلے حضرت محمد مصطفے صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے استعمال کی گئی اور صرف انہی کے لئے مخصوص ہے۔ عام انسانوں پر اس کا اطلاق مناسب نہیں ہے۔ دینی کتب میں مرقوم ہے کہ بعثت سے پہلے آپٌ نے معاش کے لئے تجارت کا پیشہ اپنایا تھا۔ آپؐ کی خوش معاملگی، راست گوئی اور امانت داری سے متاثر ہوکر ثروت مند لوگوں نے اپنا سرمایہ حضورؐ کی خدمت میں پیش کرکے اپنا کاروبار ان کے سپرد کرنا شروع کردیا۔

پھول عبد اللہ کا مہکا انوکھی شان سے

بت پگھل کر رہ گئے خاروں کو چکر آگئے

(افسر)


حضرت سیدہ خدیجہْ اس دور میں پیشہ تجارت سے وابستہ تھیں اور ایک مالدار خاتون تصور کی جاتی تھیں۔ دوسرے لوگوں کی طرح انہیں کاروباری معاملات میں آپؐ کی خوبیوں اور کامیابیوں کا علم ہوا تو انہوں نے بھی اپنا مال تجارت حضورؐ کے سپرد کردیا جو اونٹوں پر لاد کر دور دراز علاقوں میں جائز منافع پر فروخت کر دیتے۔ تجارتی لین دین میں آپؐ سے معاملہ کرنے والے سب لوگوں نے امانت داری کی وجہ سے آپؐ کو امین کا لقب دے دیا اسی بنیاد پر قبیلہ قریش نے بھی آپؐ کو صادق و امین قرار دیا اور پاک نفس، دانا و حلیم اور بلند اخلاق و بلند کردار تسلیم کیا۔
آپؐ صادق ہیں، ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ قرابت داروں کا حق ادا کرتے ہیں، فقیروں مسکینوں کی مدد کرتے ہیں، مسافروں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور انصاف کی خاطر لوگوں کی مصیبتوں میں کام آتے ہیں۔ اس سے قبل بھی قریش معاملات میں کھرا پن، وعدے کی پاسداری اور انتہائی دیانت داری کے یکتا اوصاف کی وجہ سے آپؐ کو صادق اور امین کے لقب سے پکارنے اور یاد کرنے لگے تھے۔ پھر یہ ایک اصطلاح بن گئی جو صرف آپؐ سے مخصوص ہے اور صادق اور امین کے الفاظ ایک ساتھ آجائیں تو حضورؐ کے سوا کسی اور کا تصور بھی ممکن نہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دعوت اسلام کی ابتداء میں اہل قریش آپ پر فوری ایمان تو نہ لائے لیکن آپ کے صادق اور امین ہونے کا برملا اقرار کیا۔
صادق اور امین کی ترکیب مفہوم کے اعتبار سے ایک جامع اصطلاح ہے جو زندگی کے تمام پہلوئوں پر محیط ہے اور اس کا اطلاق صرف اللّٰہ کے نبیٌ پر ہی ہو سکتا ہے کسی دوسرے انسان سے اس اعلیٰ معیار پر پورا اترنے کی توقع بھی نہیں کی جا سکتی

‫وہ آدم و نوح سے زیادہ، ‬
‫بلند ہمت بلند ارادہ ‬
‫ وہ زہد عیسیٰ سے کوسوں آگے ‬
‫جو سب کی منزل وہ اسکا جادہ ‬
‫ہر اک پیغمبر نہاں ہے اس میں ‬
‫ہجوم پیغمبراں ہے اس میں ‬
‫ میرا پیغمبر عظیم تر ہے‬

ٱللَّٰهُمَّ صَلِّ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .
ٱللَّٰهُمَّ بَارِكْ عَلَىٰ مُحَمَّدٍ وَعَلَىٰ آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَعَلَىٰ آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ .

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی”

تبصرہ کریں