(اس سلسلے کی چوتھی پوسٹ)
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دلنشین پیغامات:
پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت کو،
شرک ، ناانصافی ، نسلی قومی و لسانی امتیازات ، جہالت اور برائیوں سے نجات و فلاح کا نقطۂ آغاز کہی جا سکتی ہے اور صحیح معنی میں اللّٰہ کے آخری نبی نے انبیائے ما سبق کی فراموش شدہ تعلیمات کواز سر نو زندہ و تابندہ کر کے عالم بشریت کو توحید ، معنویت ، عدل و انصاف اورعزت و کرامت کی طرف آگے بڑھایا ہے ۔
حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دلنشین پیغامات کے ذریعے انسانوں کو مخاطب کیا کہ
”خبر دار ! اللّٰہ کے سوا کسی کی پرستش نہ کرنا اور کسی کواس کا شریک قرار نہ دینا تا کہ تم کو نجات و فلاح حاصل ہو سکے “۔
پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی اس پر خلوص معنوی تبلیغ نے جہالت و خرافات کی دیواریں بڑی تیزی سے ڈھانا شروع کردیں اورلوگ جوق درجوق اسلام کے گرویدہ ہوتے چلے گئے ۔
پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت در حقیقت انسانوں کی بیداری اورعلم و خرد کی شگوفائی کا دور ہے ۔
آج رسول اسلام کی بعثت کو صدیاں گزر چکی ہیں لیکن عصر حاضر کے ترقی یافتہ طاقتور انسانوں کو، پہلے سے بھی زیادہ پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کے پرامن پیغامات اور انسانیت آفریں تعلیمات کی ضرورت ہے ۔
بنیادی طور پر پیغمبر اسلامٌ کی بعثت آج کے انسانوں کےلئے کن پیغامات کی حامل ہے۔
اس کے جواب میں سب سے پہلے یہ دیکھنے کی ضرورت ہے ختمی مآب محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم نے انسانوں کو کس چیز کی دعوت دی ہے؟
در اصل انسان کے یہاں بعض خواہشیں اور فطری میلانات موجود ہیں، یہ فطری میلان خود انسان کے وجود میں ودیعت ہوئے ہیں اور ان کو ختم نہیں کیا جاسکتا ۔
مثال کے طور پر اچھائيوں کی طرف رغبت اور پسند ، تحقیق و جستجو کا جذبہ یا اولاد سے محبت
وہ انسانی خصوصیات ہیں جن کو اس کی ذات سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔
ظاہر ہے دنیا میں آنے والا ہر وہ انسان کہ جس نے فطرت کی آواز پر لبیک کہی ہو حقیقی اور جاوداں انسان بن جائےگا کیونکہ یہ وجود انسانی خواہشات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے اور اس کی فطری ضرورتوں کی تکمیل کرتا ہے ۔
پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت ، انسان کی فطری ضروریات کی تکمیل کے لئے ہوئی ہے اوراس نے ایمان و معرفت ، آگہی و بیداری اور برادری و انسان دوستی کے چراغ روشن کئے ہیں ۔
کھُلتے گئے ہیں مجھ پہ قمرؔ حیرت کے در
اوصافِ سرکارؐ پہ جتنا سوچا ہے
(قمر وارثی)
لہذا رسول اللّٰہ کی بعثت کا دن انسانی زندگي میں ایک عظيم انقلاب اور تجدید حیات شمار ہوتا ہے وہ انقلاب جو انہوں نے بر پا کیا ہے انسان کوخود اپنے اوراپنے انجام دئے گئے برے اعمال کے خلاف جدو جہد پرآمادہ کرتا ہے اور جو بھی رسول اللّٰہ کے روشنی بخش پیغامات کو سنتا ہے اپنی اورکائنات کی حقیقی شناخت پیدا کرلیتا ہے اور پھر خود کو ہی عدل و انصاف کی عدالت میں کھڑا پا کر اپنے وجود میں ایک نئے انسان کی تعمیر پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
یہ خصوصیات صرف مذہب کے ساتھ وابستہ ہیں کہ وہ آدمی کو ایک خالص مادی اور دنیوی قالب سے نکال کر سچائی اورانصاف کی معنوی دنیا تک پہنچادیتا ہے اور ایک نفس پرست کوانصاف پسند نیکوکار انسان میں تبدیل کردیتا ہے ۔
مذہب انسان کی حیات کےلامتناہی چشمے کی طرف رہنمائی کرتا ہے اوروحی دنیا کی باتیں اس کے دل و جان میں جگہ بنالیتی ہیں ۔
وحی کی باتیں انسان کو زندگي ، کیف و نشاط اور بیداری و آگہی عطا کرتی ہیں ،
وحی کی باتیں ، معرفت کا چراغ ہیں جو انسان کو حقائق محض سےآشنا بنا دیتی ہیں ۔ ہر عہد اور ہر زمانے کا انسان اس جاوداں نور سے روشنی حاصل کر کے ، اپنے اندر معنویت کی نئی جوت جگاسکتا ہے اور پھر ترقی و کمال کی اعلیٰ معراج طے کر سکتا ہے ۔
قرآن کریم میں انبیاء(ع) کی بعثت کا فلسفہ ، انسان کی تعلیم و تربیت ، عدل و انصاف کی برقراری، تاریکیوں سے رہائی اور جبر و استبداد سے انسان کو آزادی دلانا بتایا گیا ہے ۔
سورۂ انفال کی 24 ویں آيت کے ایک حصہ میں بھی بعثت کو زندگی اور حیات سے تعبیر کیا گيا ہے جو معاشروں کو ترقی عطا کر کے تقاضوں کی تکمیل کی راہ دکھاتی ہے ۔
ارشاد ہوتا ہے
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ
“اے ایمان والو اللّٰہ و رسول کی آواز پر لبیک کہو وہ جب بھی تم کو اس پیغام کی طرف بلائیں جو تمہارے لئے سرچشمۂ حیات ہے ۔”
“اقتباس”
جو جمال روح حیات تھا جو دلیل ِ را ہ نجات تھا
اس راہبر کے نقوش ِ پا کو مسافروں نے بھلا دیا
(عنایت)
یا رسول اللّٰہ ہم سب بہت شرمندہ ہیں کہ آپ کی تعلیمات کو یکسر فراموش کر بیٹھے ہیں
پروردگار ہم سب کو رسول اللّٰہ کی تعلیمات پہ عمل کرنے کی توفیقات عطا فرما۔
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
