سیرت نبوی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم ایسا حسین گلدستہ اور ایسا دلنواز موضوع ہے جس پر ہر دور کے صاحبِ قلم اور صاحبِ ایمان افراد نے اپنی اپنی بساطِ مستعار کے مطابق چھوٹے بڑے مضامین اور مفاہیم سے لبریز اشعار سے اِس وادیِ عشقِ رسالت میں قدم رکھا اگر ان سب کا احاطہ کیا جائے تو ان کی تعداد بلا مبالغہ کروڑوں تک پہنچ جائیگی
اور ایسا کیوں نہ ہوتا مومن کی زندگی کے شب و روز کا اصل محور و ہدف حبیبِ کبریاء صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کا وہ حسین ترین اُسوہ ہے جس کے حسین ہونے پر
خود ربِّ کائنات نے
لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ
بتحقیق تمہارے لیے اللّٰہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے
﴿الاحزاب آیت 21 کا حصہ ﴾
کا مہر ثبت کیا۔
جس کے اعلیٰ ہونے پر ربِّ کائنات نے قرآن میں سند دی۔
جن کی گفتگو کے مصدقہ ہونے پر خود ربِّ کائنات نے
وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی ؕ﴿النجم /3﴾ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی ۙ﴿النجم /4﴾
وہ خواہش سے نہیں بولتا۔ یہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو (اس پر)نازل کی جاتی ہے
کا مژدہ سنایا۔
“اخلاق پیغمبرٌ “
پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کا اخلاق:-
پیغمبر اسلام ( صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) اسلامی اخلاق اور اقدار کو معاشرے میں نافذ اور لوگوں کی روح، عقائد اور زندگی میں رائج کرنے کے لئے، زندگی کی فضا کو اسلامی اقدار سے مملوک کرنے کے لئے کوشاں رہتے تھے۔
پیغمبر اسلامۖ کی نرمی اور سختی قرآن کریم پیغمبر اکرم ( صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم) کی ملائمت اور لوگوں سے نرمی سے پیش آنے کی تعریف کرتا ہے اور کہتا ہے کہ آپ سخت نہیں ہیں۔
“فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ
اے رسول) یہ مہر الٰہی ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے اور اگر آپ تندخو اور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو جاتے، پس ان سے درگزر کریں اور ان کے لیے مغفرت طلب کریں
(سورہ آلِ عمران آیت 159 کا حصہ)
یہی قرآن دوسری جگہ پر پیغمبر ( صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتا ہے کہ
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ
پیغمبر !کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے
(سورہ توبہ /73)
کفار اور منافقین سے سختی سے پیش آئیں۔
وہی "غلظ” (سختی) کا مادہ جو پہلے والی آیت میں تھا
یہاں بھی ہے لیکن یہاں قانون کے نفاذ اور معاشرے کے امور چلانے اور نظم و ضبط قائم کرنے میں ہے۔
وہاں سختی بری ہے، یہاں سختی اچھی ہے۔
وہاں سختی سے کام لینا برا ہے اور یہاں سختی سے کام لینا اچھا ہے۔
“اقتباس”
اے خاور حجاز کے رخشندہ آفتاب
صبح ازل ہے تیری تجلّی سے فیضیاب
شایاں ہے تجھ کو سرورِ کونین کا لقب
نازاں ہے تجھ پہ رحمتِ دارین کا خطاب
(مولانا ظفر علی خاں )
الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“
