اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۴﴾

روح اور جسم اللّٰہ کی امانتیں ہیں جو اس نے اپنی مہربان طبعیت کی وجہ سے ہم جیسوں کو عطا کر رکھی ہیں
سو جب تک آنکھیں ہیں ..
ان میں نور ہے..
اللّٰہ کے علم سے اپنے دل اور دماغ کو اتنا روشن کرلیں کہ کل اگر مالک اپنی امانت واپس لے لے تو اسی کی مہربانی سے اپنے اندر کی روشنی سے راستہ دیکھتے رہیں ….
قرآن مجید طاق پر نہیں آنکھوں کے رستے دل و دماغ میں سجائیں ..
اسے اپنے عمل میں سانس کی طرح بسالیں …
کل کیا ہو کوئی نہیں جانتا ..
بس جو پل عطا ہو وہی مہلت ہے ….

‎یہی وہ شہر ہے جو عارفوں کی منزل ہے
‎اسی کے سائے میں روحانیت کی محفل ہے
‎یہی وہ شہر ہے جو مہر و ماہ کا دل ہے
‎اسی کی روشنی ظلمت پہ ضرب قاتل ہے
‎نجات اہل کرد ہے اسی سفینے میں
‎خدا ملے کا اسی حمد کےمدینے میں
(قیصر بارھوی)

الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں