” کردار “

” کردار“

اگر ہمارے ہاتھ میں چائے کا گرم کپ ہو (یا پانی کا بھرا ہوا گلاس ہو ) اور کوئی دھکا دے
تو کیا ہوتا ہے؟
ہمارے کپ سے گرم چائے چھلک جاتی ہے پانی ہوگا تو پانی چھلک جاتا ہے
اگر کوئی پوچھے ہمارے کپ سے چائے کیوں چھلکی یا پانی کیوں چھلکا ؟
تو ہمارا جواب ہوگا کیونکہ فلاں نے ہمیں دھکا دیا
جبکہ اصل بات یہ ہے کہ ہمارے کپ میں چائے تھی
اس لئے چھلکی یا پانی تھا اس لئے چھلکا ۔۔
ہمارے کپ سے وہی چھلکے گا جو اس میں ہے
اسی طرح زندگی میں جب لوگوں کے رویئے سے ہمیں دھکے لگتے ہیں تو
اس وقت ہماری اصلیت چھلکتی ہے!!
ہمارا اصل اس وقت تک ہمارے سامنے نہیں آتا
جب تک ہمیں دھکا نہ لگے۔۔۔۔
تو دیکھنا یہ ہے کہ
جب ہمیں دھکا لگا تو کیا چھلکا؟
صبر، خاموشی، شکر گزاری، رواداری
سکون، انسانیت، وقار۔
یا
غصہ، کڑواہٹ، جنون،
حسرت، نفرت، حقارت!!!!

جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں

ہم چن لیں کہ ہمیں اپنے کردار کو کس سے بھرنا ہے؟
فیصلہ ہمارے اختیار میں ہے!!
(اقتباس)

دیکھو نہ ذات پات نہ نام و نسب شفاؔ
پر دوست جب بناؤ تو کردار دیکھ کر

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں