”قرآن کو اپنی زندگی کا لائحہ عمل بنائیں اور اسکی تعلیم درِ آلِ محمدٌ سے لیں“

ہم پہ دروازے کھلیں گے دانش و ادراک کے
ہو گی جب آشکارا حکمتِ قرآنِ پاک
(نسیم سحر )

پچھلے ہفتے ہماری دس سال کے عرصے میں پانچویں گاڑی ٹوٹل (مکمل تباہ ) ہوئی لیکن شکر ہے پروردگار کا اس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا بال بھی بیکا نہیں ہوا
ابھی جب ہم نے تباہ شدہ گاڑی میں سے اپنے سامان نکالے تو ساتھ میں ایک چھوٹا سا قرآن جو کہ ہم ہمیشہ گاڑی کے سامنے والے شیشے میں لٹکا کے رکھتے تھے اور جو بھی گاڑی تباہ ہوئی ہے اب تک ہر ایک میں وہ موجود تھا
جب اس گاڑی سے وہ نکالا تو ہمارا بیٹا (حسنی) ہمارے پاس آیا کہ ماما وہ قرآن ہمیں دے دیں ہمیں اپنی گاڑی میں لٹکانا ہے (اسکا جو لٹکا ہوا تھا اسکی زنجیر ٹوٹ گئی تھی)
تو ہم نے کہا،
کیوں بیٹا کوئی خاص وجہ؟
اس نے جواب دیا
ماما، یہ تمام گاڑی میں موجود تھا جو حادثہ کا شکار ہوئی لیکن ہم سب محفوظ رہے اس لئے۔
ہم نے اس سے کہا:-
بیٹا جس طرح صرف یہ اس لٹکے ہوئے قرآن نے ہمیشہ ہماری حفاظت کی سوچو اس کو سمجھ کے پڑھنے سے اور اس پہ عمل کرنے سے ہماری زندگی اور روح تک محفوظ ہوسکتی ہے

آں کتابِ زندہ قرآنِ حکیم
حکمتِ او لایزال است و قدیم
نسخہء اسرارِ تکوینِ حیات
بے ثبات از قوتش گیرد ثبات
اقبال
(مفہوم : حكمت والا قرآن وہ كتابِ زندہ ہے جس كى حكمت لازوال اور قديم ہے۔ يہ كتاب زندگی كی تکوین یا بناوٹ كے رازوں كا خزانہ ہے اور اس كى قوت سے بے ثبات (فانى ) بھی ثبات (بقا ) حاصل كر سكتے ہيں ۔)

ہم اس قرآن کو اپنا لائحہ عمل بنائیں ہر ہر قدم پہ یہ ہماری حفاظت کرے گا عقیدے میں، اعمال میں، عبادت میں، نظریئے میں، ادب آداب میں، تاریخ میں، واقعات میں، حال میں، مستقبل میں، والدین کے احترام کا طریقہ بتائے گا تو رشتے داروں کے ساتھ سلوک کا سبق دے گا غریب مسکینوں اور یتیموں کے ساتھ ہمدردی کا طریقہ بتائے گا
اپنی زندگی کا ساتھی چنے کا طریقہ بتائے گا تو کبھی اولاد کی تربیت کا گُر سمجھائے گا
ہر ہر جگہ پہ ہماری رہنمائی کرے گا
توحید ہمیں اس سے ملے گی ہم شرک سے اس کی وجہ سے بچیں گے انبیاء، آئمہ کا کردار ہمیں اس میں نظر آئے گا قیامت کی ہولناکیاں اس میں دیکھ کے ہم اپنے اعمال پہ توجہ دیں گے
تو یاد رہے کہ ہم کسی بھی حال میں قرآن و اہل بیت کو الگ نہ کریں
قرآن ہمیں طریقہ بتا رہا ہے تو محمدٌ و آلِ محمدٌ ہمیں عمل کرکے دکھا رہے ہیں تاکہ ہم مومن اور متقی بنیں ان کا عمل اپنے لئے نہیں تھا وہ تو تھے ہی معصومین گناہوں سے دور ان کا ایک ایک عمل ہمارے لئے راہِ حیات و نجات ہے

دنيا كى خرافات ميں مغرور ہوئے ہیں
ہم لوگ تلاوت سے بہت دور ہوئے ہیں
گھر میں نظر آتے ہیں فقط طاقوں ميں قرآن
ہم کیسے مسلمان ہیں؟ ہم کیسے مسلمان ؟


اہل مغرب كى "تصانيف” پہ دم ديتے ہیں
اور "قرآن” ہے لپٹا ہوا جزدانوں میں
( بیکل یزدانی )

آیئے آج عہد کریں کہ قرآن کو اپنی زندگی میں شامل کرنا ہے
اور کوشش کریں کہ ہر صبح کا آغاز فجر کی نماز کے بعد تلاوتِ قرآن سے کریں چاہے وہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو لیکن بہ ترجمہ وتفسیر جزاک اللّٰہ !!

پروردگار ہم سب کو سچا مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں