” تربیت کا خاصۂ“

فرمانِ امام علی علیہ السلام:-
”لَا أَدَبَ مَعَ غَضَب‏“
غضب کے ساتھ ادب نہیں ہوتا
[غرر الحکم، ص۷۷۰]

اسلام بچوں سے شفقت و محبت کا درس دیتا ہے
اسی لئے مار پہ دیت کا حکم ہے کیونکہ ڈانٹ ڈپٹ بچوں کی شخصیت کو متاثر کرتی ہے
آیت اللّٰہ سیستانی کا جواب:-
سوال: کیا بچوں کو مارنا پیٹنا جایز ہے؟
جواب:
اگر بچے کوئی فعل حرام انجام دیں یا کسی کو اذیت پہنچائیں، تو ولی یا اسکے اجازت یافتہ شخص کے علاوہ کسی کو بھی ادب سکھانے کے لیئے مارنے پیٹنے کا جواز نہیں ہے۔اور ولی یا اسکے اجازت یافتہ شخص کہ لیئے تادیب کی خاطر ہلکی و غیر مبرح (زخمی ) نہ کرنے والی پٹائی جو کہ بچے کی جلد کی سرخی کا سبب نہ بنے،جایز ہے بشرط کہ ۳ تین ضربوں سے زیادہ نہ ہوں، یہ بھی جب کہ ادب سکھانا پٹائی پر ہی موقوف ہو ۔

‎ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کے نفسیاتی اور طبعی اثرات پوری زندگی رہتے ہیں۔
‎یونیورسٹی آف پٹس برگ کی خاتون ماہرنفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کو ڈانٹنا اخلاقی طور پر درست عمل نہیں جبکہ نفسیاتی طور پر بھی اس کے بچوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
‎جن بالغوں کو بچپن میں دھونس اور ڈانٹ کا نشانہ بنایا گیا
‎ وہ سگریٹ نوشی اور دیگر نشے کی جانب مائل ہوجاتے ہیں
‎ماہر نفسیات کی جانب سے کئے گئے سروے کے بعد معلوم ہوا کہ بچپن میں ڈانٹ ڈپٹ کھانے والے افراد میں 20 سال بعد ان کا رویہ بہت پرتشدد تھا اور ان کی زندگی میں بہت معاشی مشکلات آئی
‎اس کے علاوہ اگلے مزید 20 برسوں تک وہ اپنے مستقبل سے مایوس دکھائی دیئے جب کہ ادھیڑ عمری میں ایسے افراد دل اور شریانی امراض کے شکار بھی زیادہ ہوئے ماہر نفسیات کے مطابق سروے میں ایک اور بات یہ بھی دیکھنے میں آئی کہ جن افراد نے بچپن میں تشدد دیکھا خود انہوں نے اپنے بچوں کو بہت ڈانٹا اور ان پر بھی تشدد کیا جو ایک خطرناک رحجان ہے۔

حدیث رسول اللّٰہ ہے کہ:-
مَن لا يَرحَمْ لا يُرحَمْ
“جو رحم نہیں کرتا اس پر منجانب ﷲ رحم نہیں کیا جاتا‘‘۔
( كنز العمّال : ۵۹۶۶ )

بچوں کو پیار کرنا بھی رحمت خداوندی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ انسان محبت اور توجہ کا بھوکا ہوتا ہے۔
محبت اور توجہ دلوں کو حیات بخشتی ہے۔ جو انسان خود کو پسند کرتا ہے وہ چاہتا ہے کہ لوگ بھی اسے پسند کریں۔
محبت و چاہت انسان کو شادمان اور خوشحال کرتی ہے۔
محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو والدین و اولاد اور استاد و شاگرد دونوں کے دلوں پر مساوی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر انسان کسی کو چاہتا نہیں ہوگا، پسند نہیں کرتا ہوگا تو اس کی تربیت کیسے کر سکتا ہے۔ تربیت اولاد میں محبت کا کردار بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ والدین تربیت کی بنیاد مہر و محبت پر رکھیں۔
اس لیے کہ اگر ایسا نہیں ہوگا تو وہ ارتباط جو بچوں کے رشد و کمال کا سبب بن سکتا ہے، بر قرار نہیں ہو سکے گا اور صحیح طرح سے تربیت نہیں ہو سکی گی جب کہ اگر والدین کا سلوک تندی و سختی لیے ہوئے ہوگا تو وہ بچے کی روحی و روانی ریخت و شکست کا سبب ہو جائے گا اور وہ بے راہ روی کا شکار ہو جائیں گے۔
بچوں سے رابطہ کی زبان محبت ہونی چاہیے۔
غصہ و تندی و سختی سے کسی کی تربیت نہیں کی جا سکتی۔
‎تربیت میں محبت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ محبت، اطاعت سکھاتی ہے اور محبت والے ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ بچوں اور نو جوانوں کو بوڑھوں سے زیادہ محبت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے

پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَرْحَمْ صَغِيرَنَا وَ يُوَقِّرْ كَبِيرَنَا.
جو شخص بچوں پر مہربانی اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ مجھ سے نہیں ہے۔
(إرشاد القلوب , جلد۱ , صفحه۱۸۵ )

‎دل کہ در وی عشق نبود حفرہ تنگ است و بس
‎بی محبت یک جہان ھم یک نفس است و بس
(علامہ سید اسماعیل بلخی )
(ترجمہ:- جس دل میں عشق نہیں وہ ایک تنگ سوراخ ہے اور بس اتنا ہی کافی ہے
محبت ایک دنیا اور ایک روح ہے اور بس اتنا ہی کافی ہے)

شکر ہے پروردگار کا ہم نے اپنے بچوں پہ بچپن سے آج تک کبھی بھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔

پروردگار ہم سب کو اسلام سمجھنے کی توفیق عطا کر
آمین یا رب العالمین

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں