جَابِرٌ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ:-
تَنَازَعُوا فِي طَلَبِ الْعِلْمِ وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَحَدِيثٌ وَاحِدٌ فِي حَلَالٍ وَ حَرَامٍ تَأْخُذُهُ عَنْ صَادِقٍ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَ مَا حَمَلَتْ مِنْ ذَهَبٍ وَ فِضَّةٍ(ابن ادريس، محمد بن احمد، السرائر الحاوي لتحرير الفتاوي( و المستطرفات) ؛ ج3 ؛ ص645)
امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
حصول علم میں ایک دوسرے سے سبقت لے لو، اللّٰہ کی قسم حلال و حرام کے بارے میں ایک حدیث کسی سچے انسان سے سننا، دنیا اور سونا اور چاندی سے بہتر ہے۔
علمِ دین کو حاصل کرنے کی بہت بڑی فضیلت ہے۔
علم خدا کا نُور ہے۔
علم سے اللّٰہ کی پہچان نصیب ہوتی ہے۔
علم سے حلال حرام کی تمیز ہوتی ہے۔
علم سے اللّٰہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
علم تمام خوبیوں کا مجموعہ ہے۔
علم کی لذّت مل جانے کے بعد دنیا کی ہر دولت سے انسان بےنیاز ہوجاتا ہے۔
علم کے لئے اُٹھنے والے قدم جنت کی طرف لے جاتے ہیں ۔
علم حاصل کرنے کے لئے گھر سے نکلنے پر "جِہَاد” کا ثواب ہے۔ اس راستے میں مرنے والے کو "شہادت” کا مقام ہے۔
علم حاصل کرنے میں کامیابی پر "غازی” کا درجہ ہے۔
علم کےلئے بھوک پیاس برداشت کرنے پر "روزہ” کا اَجَر ہے۔
حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
عُلماء انبیاء کے وارث ہیں۔
یہ بھی فرمایا کہ
علمِ دین حاصل کرنے کےلئے آنے والوں کے ساتھ "حُسنِ سُلوک” کرنے کی میری وصیت قبول کرو۔
قرآن و حدیث کا علم حاصل کرنے پر بیشمار فضیلتیں آئی ہیں
ادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیں
(چکبست)
پروردگار ہم سب کو علم کی جستجو عطا فرما
آمین یا رب العالمین
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
