وَ قَالَ الْكَلِمَةُ مِنَ الْحِكْمَةِ يَسْمَعُ بِهَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ أَوْ يَعْمَلُ بِهَا خَيْرٌ مِنْ عِبَادَةِ سَنَة(كراجكى، محمد بن على، كنز الفوائد، ؛ ج2 ؛ ص108)
ترجمہ:
علم کا تعلق حکمت سے ہے جو اسے سنے اور دوسروں کے لیے نقل کرے یا خود اس پر عمل کرے تو یہ ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ:
وَ اعْلَمُوا أَنَّ الْكَلِمَةَ مِنَ الْحِكْمَةِ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ فَعَلَيْكُمْ بِالْعِلْمِ قَبْلَ أَنْ يُرْفَعَ وَ رَفْعُهُ غَيْبَةُ عَالِمِكُمْ بَيْنَ أَظْهُرِكُم(ابن شعبه حرانى، حسن بن على، تحف العقول عن آل الرسول صلى اللّٰہ عليه و آله،؛ ص394)
ترجمہ:
جان لیں کہ علم کا تعلق حکمت سے ہے اور یہ مومن کی گمشدہ چیز ہے پس تم پر لازم ہے کہ علم حاصل کرو اس سے پہلے کہ تمھارے درمیان سے اٹھ جائے علم کے اٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ عالم تمہارے درمیان سے غائب ہو جاتے ہیں۔
اقبال مولانا رومی سے پوچھتے ہیں:
علم و حکمت کا ملے کیونکر سراغ
کس طرح ہاتھ آئے سوز و درد و داغ
رومی کہتے ہیں:
علم و حکمت زاید از نان حلال
عشق و رقت آید از نان حلال
( علم و حکمت، حلال روٹی سے زیادہ ہے
عشق و رقت رزق حلال سے ملتا ہے)
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
