ہماری زندگی شیطان کو کنکریاں مارنے کا نام ہی تو ہے۔
رمی کا پورا عمل زندگی کی کہانی ہی تو ہے۔
چلتے جائیں آگے ہی آگے۔
ذرا دیر کو رُکنے یا مڑنے کی گنجائش نہیں۔
ایک ہجوم ہے،
ایک بھگدڑ ہے۔
اس میں بڑے کرم کی بات ہے کہ کسی عام کو کائناتِ وقت میں کچھ خاص لمحے عنایت ہوجائیں
جب ہم محنت سے جمع کیے خواہشوں اور حسرتوں کے سنگریزے رب کے فرمان پر دھتکارنے کو تیار ہوجائیں۔
بند مٹھی میں قید،
بےقیمت حسرتیں پل میں یوں پھینک دیں کہ پلٹ کر دیکھنے کی بھی خواہش نہ رہے۔
ننگ و اژدھا و شیرِ نر مارا تو کیا مارا
بڑے موذی کو مارا، نفس امارہ کو گر مارا
(ذوق)
رمی فقط اندرونی اور بیرونی کیفیت کے اظہار کا نام ہے۔
’’اندر نفس باہر شیطان‘‘۔
ان دونوں کو کنٹرول کرنا ہی انسانیت کی جیت ہے
مومن کی پہچان ہے
تقوی کی دلیل ہے
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
روبی عابدی
