” سوچ طاقت کا سرچشمہ ہے“

بلا شبہ انسان کی تخلیق کا ایک سبب تفکر (سوچ) بھی ہے ،
اسی لیئے قران میں اکثر مقامات پر نشانیاں تلاش کرنے کا حکم ھے ۔ قران مجید کے مختلف سورتوں میں تقریبا پچاس جگہوں پر سوچنے، فکر کرنے، تدبر اور عقل استعمال کرنے کے سلسلہ میں آیات نازل ہوئی ہیں ۔
قرآن مجید بار بار اس بات کی طرف متوجہ کرا رہا ہے کہ تم بالاخر سوچتے کیوں نہیں ہو؟
‎قرآنِ مجید نے بندۂ مومن کی بنیادی صفات و شرائط کے ضمن میں جو اَوصاف ذِکر کئے ہیں اُن میں آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں تفکر (علمِ تخلیقیات (Cosmology)
کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔

کِتٰبٌ اَنۡزَلۡنٰہُ اِلَیۡکَ مُبٰرَکٌ لِّیَدَّبَّرُوۡۤا اٰیٰتِہٖ وَ لِیَتَذَکَّرَ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ
(سورہ ص /29)
‎یہ ایک ایسی بابرکت کتاب ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں اور صاحبان عقل اس سے نصیحت حاصل کریں۔

اسی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
"تَفَكَّرُوا فِي آلاءِ اللَّه”
(اللّٰہ کی نشانیوں میں غور و فکر کرو)

‎سوچنا انسان کی اپنی ڈسکوری کا سبب بنتا ہے۔
‎سوچ کے ذریعہ انسان ان چیزوں کو پا لیتا ہے جو اس سے چھپی ہوتی ہیں ۔
‎سوچ کے ذریعہ انسان کائنات کے اسرارو رموز کوپالیتا ہے ۔
‎سوچ انسان کے لیے خدا کی معرفت کا سبب بنتی ہے۔سوچ کے ذریعہ انسان یہ جانتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا ہے اور اسے یہاں کون سا کردار ادا کرنا ہے؟
‎سوچ انسان کو بتا تی ہے کہ کسی معاملہ میں صحیح رویہ کیا ہوسکتا ہے۔
‎یہ سوچ ہے جس نے انسان کو اسٹون ایج
( Stone Age)
‎سے نکال کر کلٹیویشن ایج
( cultivation age)
‎میں پہنچا دیا۔اسی سوچ کے ذریعہ انسان کلٹیویشن ایج سے نکل کر سوپر
‎ٹیکنالوجی ایج
(Super-Technology )
‎میں پہنچاہے ۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اسی سوچ کے ذریعہ انسان ،انسان کامل بن سکتا ہے۔
‎انسان اگر انسان ہے، تو اسی سوچ کی وجہ سے ہے۔

‎رین ڈسکارتے
( René Descartes, (1596–1650) was a French philosopher )
‎نے کہا ہے ۔
"” I think therefore I am "
‎میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں ‘۔

تفکر ہو تو اک لمحے کی بینائی غنیمت ہے
‎وگرنہ سیب تو ٹہنی سے پہلے بھی گرا ہوگا

‎یعنی زمین پر انسانی وجود صرف اس لیے باقی ہے کیونکہ انسان سوچتا ہے۔اگر انسان سوچنا چھوڑ دے تو اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔
‎سوچ وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان نے بڑے بڑے معرکے سر کئے ہیں۔
‎اگر ہم سوچیں تو ہم کبھی بھی اپنے آپ کو کمزور نہیں پائیں گے- ہم اپنے اندر طاقت کا وہ ذخیرہ پالیں گے جس کا سامنا کرنا کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔

لیکن اس امت میں ایسے افراد آج بھی موجود ہیں جنکی وجہ سے قلب رسول مظطر ہے کہ وہ قرآنی آیات میں تدبر کیوں نہیں کرتے تعقل نہیں کرتے تفکر نہیں کرتے۔

"وَ قَالَ الرَّسُوۡلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوۡمِی اتَّخَذُوۡا هذَا الۡقُرۡاٰنَ مَهجُوۡرًا۔” (سورة الفرقان / 30)
اور رسول اللّٰہ کہیں گے کہ اے میرے پروردگار! بیشک میری امت نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا ۔

قال الامام حسن بن علي العسكري (ع):
"عليكم بالفكر فانه حياة قلب البصير و مفاتيح ابواب الحكمة”.
تم پر لازم ہے سوچنا اور تفکر کرنا! کیونکہ یہ بصیرت و آگہی سے مالامال دلوں کی حیات اور ابواب حکمت کی چابی ہے۔
(محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، ج 8، ص 115 و الحکم الزاهرة، ج 1، ص 19).

دعا ہے پروردگار ہم سب کو تفکر و تدبر کا سلیقہ و قرینہ عطا فرما آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں