” حسد سے کیسے بچیں“

پہلے پوسٹ پہ سوال کیا گیا تھا کہ حسد سے کیسے بچیں اسکا جواب:-
حسد کا علاج کسی دوا دارو، جھاڑپھونک یا شیخ و مرشد کے توجہ سے ممکن نہیں۔
بلکہ یہ علم و عمل دونوں کا متقاضی ہے۔ اس کے بغیرحسد کا علاج نہیں ہوسکتا۔ یہ بات ہم سب پر واضح رہنی چاہیے کہ حسد سے محسود کا نہ کوئی دنیوی نقصان ہوتا ہے اور نہ دنیاوی۔ بلکہ دینوی طورپراس کے لیے یہ مفید اور باعث اجرو ثواب ہے۔
اس لیے کہ حاسد، غیبت، چغلی اور لگائی بجھائی کے ذریعے سے محسود کی آخرت کے لیے ہدیہ و توشہ فراہم کرتا ہے۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ:
‎مری ذات ہی اس کا موضوع تھی
وہ میرے گناہوں کو دھوتا رہا

جس طرح حسد کا علاج ضروری ہے اسی طرح خود کو حسد کرنے سے بچانا بھی ازحد ضروری ہے.
اگر کوئی ہم سے حسد کرتا ہے تو اس کو روکنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے مگر اپنے نفس کو حسد میں مبتلا ہونے سے روکنا اختیار میں ہوتا ہے. لہٰذا ہمیں اپنا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ
"یہ بیماری ہمارے اندر تو نہیں ہے؟”
ہر شخص کے اندر تھوڑی یا زیادہ، یہ بیماری پائی جاتی ہے. البتہ عقل مند ہیں وہ انسان، جو اس کا ادراک کر کے اس پر قابو پا لیتے ہیں اور تعمیری سرگرمیوں میں مصروف عمل ہو جاتے ہیں.
ذاتی محاسبے کے لیے ان مواقع پر ہمیں اپنا جائزہ لینا چاہئے.. جیسے کہ
جب ہم کسی کو حالت نعمت یا خوشی میں دیکھتے ہیں تو:
کیا ہم خوش ہوتے ہیں؟
اگر ہاں تو سبحان اللّٰہ یہ مومنانہ صفت ہے.
یا
کیا ہم مایوس اور غمگین ہو جاتے ہیں؟ جلتے کڑھتے ہیں؟
ڈپریشن ہونے لگتا ہے؟ اس سے نعمت چھن جانے کی آرزو کرتے ہیں؟ اس کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟
اگر ان
سوالوں کے جواب ہاں میں ہیں تو یہ خطرے کی گھنٹی ہے. کسی ایک سوال کا جواب بھی ہاں میں ہے تو آج سے اور ابھی سے اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا، کیونکہ
حسد کے بیج موجود ہیں. ان کو پھیلنے پھولنے سے روکنا ہوگا

جائزہ کے بعد اگر معلوم ہو کہ یہ بیماری ہمارے اندر بھی ہے تو پھر بیماری کا علاج شروع کر نا ہوگا.

مگر کس طرح؟
جب مرض کا علاج نہ کیا جائے تو پھر وہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے. ہمیں سب سے پہلے کثرت سے استغفار کرنا ہوگا
اور محسود کے لیے دعائے خیر کرنا ہے
نفس کو کنٹرول کرنا ہوگا
حسد کی تباہ کاریوں سے بچنے کا بہترین علاج یہی ہے کہ جس سے ہمیں کسی قسم کی تکلیف پہنچی ہو یا جسے ہم کسی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں اور اس کی فلاح و کام یابی ہمیں ایک آنکھ نہ بھاتی ہو،
ہم اپنے آپ کو ان سے راضی کریں، ان کی ترقیِ درجات سے خوش ہونے کی عادت ڈالیں،
ان کی عزت و شہرت سے تنگی و کوفت محسوس کرنے کی بجائے دل سے مسرت و شادمانی کا اظہار کریں،
اگر ممکن ہو تو ان کی عزت و شہرت میں کچھ نہ کچھ اضافے کی کوشش کریں،
جس محفل و مجلس میں ان کا تذکرہ ہورہا ہو، اس میں خوش اسلوبی سے حصہ لیں اور ان کی اچھائیاں بیان کریں۔
کسی دوسرے کی خوشی سے مقابلہ نہیں بلکہ خود پہ اللّٰہ کی عطا کی ہوئی رحمت و نعمت پہ شکر بھیجنا
اگر کسی کی کامیابی یا خوشی ہمیں افسردہ کردے وہی حسد ہے حسد کی ضد رشک ہے
ہمیشہ دوسرے کی خوشی اور کامیابی پہ رشک کرنا چاہئے
رشک یعنی دل سے خوش ہونا
جب ہم میں اللّٰہ کی دی ہوئی نعمت و رحمت پہ شکر کرنے کی عادت پڑے گی تو دوسرے کی نعمت پہ حسد نہیں ہوگا
حسد کی عادت کو رشک میں تبدیل کرنا ہے

ہم پناہ چاہتے ہیں
وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ (سورہ الفلق /5)
اور ہرحسد کرنے والے کے شر سے جب بھی وہ حسد کرے

پروردگار ہم سب کو حسد سے محفوظ رکھے۔
"آمین یا رب العالمین "

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی "

تبصرہ کریں