10ربیع الثانی 232ھ، 846ء۔
امام حسنْ عسکری ابن علی نقی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی پرمسرت موقع پہ ہم اور ہماری فیملی، رسول اللَّه، خانوادہ رسولٌ خصوصاٌ ہمارے وقت کے امام عصر عج،
تمام مومنین و مومنات، مسلمین و مسلمات کو دل کی گہرائیوں سے ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہیں
دانش سرشار او تا کرد تفسیر کتاب
عالمى سیراب گردید از زلال عسگرى
(ثابت)
قال الامام حسن بن علي العسكري (ع):
"عليكم بالفكر فانه حياة قلب البصير و مفاتيح ابواب الحكمة”.
تم پر لازم ہے سوچنا اور تفکر کرنا! کیونکہ یہ بصیرت و آگہی سے مالامال دلوں کی حیات اور ابواب حکمت کی چابی ہے۔
(محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، ج 8، ص 115 و الحکم الزاهرة، ج 1، ص 19).
مزید فرماتے ہیں:
"ليست العبادة كثرة الصيام و الصلوة و انما العبادة كثرة التفكر في امر اللّٰہ ".
نماز و روزوں کی کثرت ہی عبادت نہیں ہے بلکہ عبادت اللّٰہ کے امور میں غور و تفکر کرنے سے عبارت ہے۔
(بحارالانوار، ج 71، ص 322، وسائل الشیعه، ج 11، ص 153 ; اصول کافی، ج 2 ص 55 و تحف العقول، ص 518، حدیث 13)
"أكثروا ذكر اللّٰہ وذكر الموت وتلاوة القرآن والصلاة على النبي صلى اللّٰہ عليه وآله فإن الصلاة على رسول اللّٰہ عشر حسنات. (*) ".٭
اللّٰہ کو زیادہ یاد کرو، اور موت کو زیادہ یاد کرو، قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کرو اور نبی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم پر بہت زیادہ درود و صلوات بھیجو، پس بتحقیق رسول اللّٰہ (ص) پر صلوات کے لئے دس حسنات ہیں۔
(تئحف العقول،ص 488 .بحارالانوار ج75 ص372) –
پروردگار ہمیں اسوۂِ معصومینْ پہ چلنے کی توفیق عطا کر
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی “
