سقراط نے ایک بار کہا تھا کہ ”اچھے دماغ کے لوگ خیالات پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ کمزور دماغ کے حامل، لوگوں پر تنقید کرتے ہیں۔“
تنقید بظاہر کوئی بری بات نہیں ہے۔ اگر تعمیری اور مثبت انداز میں کی جائے تو اصلاح کا سبب بنتی ہے، جبکہ بے جا اور بے محل تنقید برائے تنقید، بجائے اصلاح کے خرابی پیدا کرتی ہے۔ زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے ہر شخص میں تعمیری اور تخریبی پہلو ضرور ہوتے ہیں۔
پہلے ہر شخص گریبان میں اپنے جھانکے
پھر بصد شوق کسی اور پہ تنقید کرے
(مرتضی برلاس)
اس کے برعکس مثبت رویے سے برداشت کا مادہ نمو پاتا ہے، اور سامنے والا نہ چاہتے ہوئے بھی اسی لب و لہجے میں جواب دینے کا پابند ہوجاتا ہے۔ ایسے میں قوت برداشت و استقامت پیدا ہوتی ہے۔
دماغی صحت کو بہتر بنانے لیے ہمیں بالکل شروع سے آغاز کرنا ہوگا، اس مسائل سے دوچار لوگوں کو پریشان ہونے کے بجائے چند چھوٹی چھوٹی عادات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
دماغی صحت کو بہتر کرنے کے حوالے سے چند ایسی عادتیں جن پر عمل کر کے ہم دماغی سکون پا سکیں گے۔
1- پُرامید رہیں
2- رضاکارانہ طور پر خدمات کریں
3- ہمیشہ شکر گزار رہیں
4- سماجی تعلقات قائم کریں
5- ہر چیز کا مقصد سمجھیں
پروردگار ہم سب کو اچھے خیالات عطا فرما
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی“

عمدہ ، روبی میں آپ کی تحریر شیئر کر رہا ہوں
پسند کریںLiked by 1 person
جی ضرور جَزَاک اللّٰہ
پسند کریںLiked by 1 person