”زبان “

صبر میں سب سے پہلے آتا ہے زبان پہ قابو جس سے ہمیں صداقت، صاف گوئی، عیب پوشی اور نرم خوئی کی صورت اپنے اندر دیکھنے کو ملتی ہے۔
صبر کا متضاد :- ہذیان، دروغ، گالی گلوچ، غیبت، بہتان، رگیں پھلانا اور اوٹ پٹانگ بولنا ۔
یہ زبان ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے پاس اللّٰہ کی اَمانت ہے۔ جب یہ امانت ہے تو پھر اس کو اللّٰہ کی رضا کے مطابق استعمال کیاجائے۔

مَا یَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ﴿ق/ 18﴾
(انسان) کوئی بات زبان سے نہیں نکالتا مگر یہ کہ اس کے پاس ایک نگران تیار ہوتا ہے۔

یَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ: اللّٰہ رگِ گردن سے بھی زیادہ انسان کے قریب ہے لیکن اس کے باوجود انسان کے اقوال و اعمال درج اور ثبت کرنے کے لیے فرشتے بھی مامور ہیں۔ درج اور ثبت کی نوعیت کا ہمیں علم نہیں ہے تاہم انہی خاکی ذرات کے ذریعے اقوال و اشکال کو ثبت، محفوظ اور ریکارڈ کرنا انسان کے لیے ممکن ہونا شروع ہو گیا ہے تو اللّٰہ کے فرشتوں کے لیے کون سی دشواری پیش آ سکتی ہے۔
یہ آیت واضح کررہی ہے کہ انسان کا قول و فعل ایک بار وجود میں آنے کے بعد باقی رہتا ہے۔
(تفسیر الکوثر)

زبان کو بات چیت، بیان و احکام میں ہمیشہ گناہوں کی باتوں سے بچانا ضروری ہے
قرآن کی زبان میں * قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا * یعنی لوگوں سے حسن گفتار سے پیش آؤ ۔
‎کیونکہ گفتارسے ہی انسان کے ما فی الضمیر کا اظہار ہوتا ہے، یہ باہمی تفاہم اور افہام و تفہیم کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ حسن گفتار میں جادو کا اثر ہے۔ جب کہ بدکلامی سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خدائی دعوت و ارشادات میں گفتار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف تعبیرات کے ذریعے حسن گفتار کی تاکید فرمائی گئی ہے:

بزرگوں نے کیا خوب کہا ہے کہ
”یہی زبان شکر بھی کھلائے اور یہ زبان جوتے بھی کھلائے۔“

اللّٰہ نے جو بخشی ہے نعمت زبان کی
کرتے رہیں ہمیشہ حفاظت زبان کی
(عبداللّٰہ)

پروردگار ہمارے دلوں میں حفاطتِ زبان کی اہمیت پیدا فرما اور اس بارے میں ہمیں قرآن وحدیث کی تعلیمات پر مخلصانہ عمل کی اور ہم سب کو زندگی کے ہر شعبے میں قرآنی نسخۂ کیمیا اور اسوہ معصومینْ پر عمل کی توفیق عطا فرما
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں