” اللّٰہ کی رحمانیت “

بِسْمِ اللَهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ ۙ﴿۳﴾ عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ﴿۴﴾

۱۔ رحمن نے۔ ۲۔ قرآن سکھایا ۔۳۔اسی نے انسان کو پیدا کیا۔ ۴۔ اسی نے انسان کو بولنا سکھایا ۔

اَلرَّحۡمٰنُ: اس جگہ اللّٰہ تعالیٰ کے اسمائے حسنی میں سے اَلرَّحۡمٰنُ کا ذکر بتاتا ہے کہ آگے اللّٰہ کی رحمانیت کے تقاضوں کا ذکر ہے۔ سب رحمتوں کا ذکر نہیں ہو گا، جن رحمتوں کا ذکر ہو گا وہ سب سے بڑی رحمتیں ہوں گی۔

۲۔ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ: سب سے بڑی رحمت قرآن کی تعلیم ہے۔ قرآن کی تعلیم نعمت تخلیق سے بھی زیادہ عظیم نعمت ہے کیونکہ قرآن انسان کی غرض تخلیق پوری کرتا ہے۔ اگر قرآن جیسی کتاب ہدایت نہ ہوتی تو تخلیق عبث ہو جاتی۔ اسی لیے تخلیق کی نعمت سے پہلے قرآنی رحمت کا ذکر فرمایا ورنہ ترتیب تو یہ بنتی تھی کہ پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر ہوتا بعد میں تعلیم کا۔ البتہ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ قرآنی تعلیم کا انتظام انسان کی تخلیق سے پہلے کیا گیا تھا۔ جیساکہ فرمایا:

اِنَّہٗ لَقُرۡاٰنٌ کَرِیۡمٌ ﴿ ۷۷﴾ فِیۡ کِتٰبٍ مَّکۡنُوۡنٍ ﴿ ۷۸﴾ (واقعۃ:۔)

یہ قرآن یقینا بڑی تکریم والا ہے جو ایک محفوظ کتاب میں ہے۔

وہ معزز تھے زمانہ میں مسلماں ہوکر

اور تم خوار ہوئے تارک قراں ہوکر

(علامہ اقبال)

۳۔ خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ: دوسری نعمت انسان کو وجود دینا ہے۔ وہ انسان جو اس کائنات میں اللّٰہ کا معجزہ ہے۔ انسان کی تخلیق میں اللّٰہ کی رحمتوں کی تجلیاں ہیں جو وصف و بیان سے بھی بالاتر ہیں۔

فرشتے سے بڑھ کر ہے انسان بننا

مگر اس میں لگتی ہے محنت زیادہ

(الطاف حسین حالی)

۴۔ عَلَّمَہُ الۡبَیَانَ: انسان کو بولنا سکھایا۔ اگر ما فی ضمیر کے اظہار کے لیے بیان یعنی الفاظ و آواز کی نعمت نہ ہوتی تو افہام و تفہیم کے لیے خود معانی کو مخاطب کے سامنے پیش کرنا پڑتا۔ مثلاً اگر پانی بتانا مقصود ہو تو ہم لفظ پانی کے ذریعے معنی آسانی سے پیش کرتے ہیں ورنہ خود پانی سامنے رکھ کر سمجھانا پڑتا جو یا تو ناممکن ہوتا یا مشکل۔

(تفسیر الکوثر)

بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا

(مرزا غالب)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی

تبصرہ کریں