” خاموشی اختیار کرنا “

یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقا سے ہے۔
“جسم کا ہر حصہ اللَّه تعالیٰ سے زبان کی تیزی کی شکایت کرتا ہے۔“
غصہ ایک نفسیاتی کیفیت کا نام ہے ،یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے ،اس وجہ سے ہر شخص کے اندر اس فطرت کا وجود ہے اور مشاہدہ میں بھی آتا ہے

غصہ قاتل کا نہ بڑھتا ہے نہ کم ہوتا ہے
ایک سر ہے کہ وہ ہر روز قلم ہوتا ہے
(منظر بھوپالی)

اللَّه تعالی مومنوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :
الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران:134)
ترجمہ: جو لوگ آسانی میں اور سختی کے موقع پر بھی اللَّه کے راستے میں خرچ کرتے ہیں ، غصّہ پینے والے اور لوگوں سے درگُزر کرنے والے ہیں ، اللَّه تعالیٰ ان نیک کاروں سے محبت کرتا ہے ۔
قرآنی آیت سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے غصہ انسانی فطرت ہے وہاں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس فطرت کو اسلام نے دباکر اور قابو میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ایسے موقع پر ایک شریف انسان کا شعار جاہلوں کی جہالت وبدتمیزی پہ صبروخاموشی ہے۔ اللّٰہ کا فرمان ہے :
وَإِذَا خَاطَبَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامًا (الفرقان:63)
ترجمہ: اور جب بے علم لوگ ان سے باتیں کرنے لگتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ سلام ہے۔
یہاں سلام کہنے سے مراد ہے جہالت پہ خاموشی اختیار کرنا۔ اسی سورہ میں آگے اللّٰہ کا ارشاد ہے :
إِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا (الفرقان:72)
ترجمہ: اور جب کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہوتا ہے تو شرافت سے گزر جاتے ہیں ۔
یہاں بھی شرافت سے گزر جانے کا مطلب ہے بدکلامی پہ خاموشی اختیار کرنا اور جو بدکلامی پہ خاموشی اختیار کرلے وہ فتنے سے محفوظ ہوجائے گا۔ کبھی ہم انتقام لینے میں حق بجانب ہوتے ہیں کیونکہ ہم پر ظلم کیا گیا ہوتا ہے مگر انتقام مزید بگاڑ وفساد اور غیض و غضب کا پیش خیمہ ہے اس وجہ سے اسلام نے معاف کرنے والے کو سراہا ہے ۔
اللّٰہ تعالی فرماتا ہے :
وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمْ يَغْفِرُونَ (الشوری: 37)
ترجمہ: وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے بچتے ہیں اور جب غصے میں آتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں۔

پرانے وقتوں کے کچھ لوگ اب بھی کہتے ہیں
بڑا وہی ہے جو دشمن کو بھی معاف کرے
(اختر شاہجہانپوری)

شیطان ہماری رگوں میں گردش کرتا ہے اسے معلوم ہے کہ انسانی طبیعت میں غصہ موجود ہے بس اس میں اشتعال پیدا کرنا ہے اس کے بعد خود ہی شیطانی عمل ظہورپذیر ہوتا ہے
انسان جس قدر متقی ہوگا، گناہوں سے پرہیز کرے گا ، دین کا علم حاصل کرے گا اور اسے عملی جامہ پہنائے گا
وہ اتنا ہی اللَّه کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ بندوں کے حقوق بھی عمدگی کے ساتھ ادا کرے گا اور کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا۔ ذہنی تناؤ اور الجھن کا شکار ہونا بھی غصہ پیدا کرنے کا سبب ہے ۔ آج کے زمانے میں اکثریت ٹینشن کا بوجھ پال رہی ہے ۔ کسی کو دولت تو کسی کو غربت ، کسی کو تجارت توکسی کو سیاست، کسی کو گھریلو تو کسی کوسماجی تناؤ نے ٹینشن کی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں چہار دانگ عالم میں لوٹ مار،اختلاف وانتشار، قتل وٖغارت گری، فتنہ وفساداور ظلم وتعدی عروج وانتہا کو ہے۔
اقتباس

پروردگار ہم سب کو قرآن پہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی “

تبصرہ کریں