”علم اور ناعلمی “

لاعلمی دو طرح کی ہوتی ہے،
ایک ہے، نہ جاننا؛
دوسرا، غلط جاننا۔
نہ جاننا اگر خطرناک ہے تو غلط جاننا بدترین۔
نہ جاننے والے کو اپنی لاعلمی کا احساس ہو سکتا ہے،
مگر غلط جاننے والا اس گھمنڈ میں رہتا ہے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے۔ اس سے پہلے اگر لاعلمی اور جہالت کا فتنہ تھا تو اکیسویں صدی میں بہت کچھ جان لینا کہیں بڑا فتنہ ہے۔
یاد رکھیے، اہم یہ نہیں کہ ہم کیا کچھ جانتے ہیں،
اہم تر یہ ہے کہ ہماری جو ضرورت ہے، کیا ہم کو اس کا علم ہے؟
یہی وہ علم ہے جس کی ضرورت ہر انسان کو ہے،
ہر مرد اور ہر عورت کو ہے…
دین کا بنیادی علم ہی’’علم‘‘ کی تعریف میں آتا ہے۔
یہی وہ علم ہے جو ہم کو اس دنیا میں ہمارا اصلی مقصد بتاتا اور ہم کو اس دنیا میں زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
روبی عابدی

تبصرہ کریں