”استاد اور شاگرد کا اجر“

عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عليه السلام، قَالَ: «إِنَ‌ الَّذِي‌ يُعَلِّمُ‌ الْعِلْمَ‌ مِنْكُمْ‌ لَهُ أَجْرٌ مِثْلُ أَجْرِ الْمُتَعَلِّمِ‌، وَ لَهُ الْفَضْلُ عَلَيْهِ، فَتَعَلَّمُوا الْعِلْمَ مِنْ حَمَلَةِ الْعِلْمِ‌، وَ عَلِّمُوهُ إِخْوَانَكُمْ كَمَا عَلَّمَكُمُوهُ‌ الْعُلَمَاءُ»
(كلينى، محمد بن يعقوب بن اسحاق، الكافي؛ ج‌1 ؛ ص84)

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
تم میں سے جو دوسروں کو علم سکھائے گا اس کا ثواب اس انسان کے برابر ہے جو اس سے علم حاصل کرتا ہے اور اس معلم کو اپنے شاگرد پر فضیلت حاصل ہے ،

پس علم کو صاحبان علم سے حاصل کریں،
اپنے بھائیوں اور بہنوں کو علم سکھائیں
جس طرح کہ ہمیں اپنے علماء نے سکھائے ہیں۔

حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے
جس قوم کا آغاز ہی اقراء سے ہوا تھا
(علامہ اقبال)

پروردگار ہم سب کو علم کی جستجو عطا فرما!
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی “

“”استاد اور شاگرد کا اجر“” پر 1 تبصرے

تبصرہ کریں