”تفکر (غور و فکر) سب سے بڑی عبادت ہے“

اللّٰہ تعالی کی نشانیوں اور کائنات میں غور و فکر کرنا بہت بڑی قلبی عبادت ہے جو کہ انسان کو عملی اقدامات پر ابھارتی ہے، اور مفید ترین عبادت ہے، یہ انسان کو عملی عبادات کی دعوت دیتی ہے اور اپنا سب کچھ اللّٰہ کے سپرد کرنے پر مجبور کرتی ہے،
"غور و فکر اصل میں حصولِ رحمت کی کنجی ہے،
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان جیسے ہی غور و فکر شروع کرے تو توبہ پر آمادہ ہو جاتا ہے”
اسلام نے عقل اور غور و فکر کو بہت بلند مقام سے نوازا ہے، یہ مقام و مرتبہ قرآن میں متعدد آیات میں بالکل واضح نظر آتا ہے، جو عقل و فکر کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں،
عقل کو دعوت دینا قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے ورنہ جن کی دعوت حق پر مبنی نہیں ہے وہ عقل اور عقل والوں سے اجتناب کرتے ہیں کہ کہیں ان کا راز فاش نہ ہو جائے۔
قرآن مجید نے مختلف انداز سے اس منفرد عبادت کی دعوت دی ہے نیز اسے اہل عقل و دانش کا کام قرار دیا

(یوسف آیت 2:)
لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
ترجمہ: تا کہ تم سمجھ سکو۔

‎قرآن کا مخاطب عقل و فکر ہے اور عقل و فکر سے کہا جارہا ہے
‎ (:الجاثیہ آیت نمبر 13)
‎لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
ترجمہ: غور و فکر کرنے والی قوم کے لئے ۔

‎اللّٰہ کی آیات سے معرفت حاصل کرنا ان لوگوں کے لیے ممکن ہے جو حق کی تلاش میں ہیں اور حق کو سمجھنا چاہتے ہیں
(الانعام آیت 98:)
لِقَوْمٍ يَفْقَهُونَ
ترجمہ: سمجھنے والی قوم کے لئے ۔

اللّٰہ تعالی نے غور و فکر کی دعوت قرآن میں جگہ جگہ پہ دی ہے اور فرمایا:
(ص: 29)
كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ
ترجمہ: ہم نے آپ کی طرف جو کتاب نازل کی ہے وہ بابرکت ہے، تاکہ وہ اس کی آیات میں غور و فکر کریں اور اہل دانش نصیحت حاصل کریں۔

اسی طرح اللّٰہ تعالی نے اپنی مخلوقات میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا:
(الروم: 8 )
أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَكَافِرُونَ
ترجمہ: کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟ اللّٰہ نے آسمانوں ، زمین اور ان کے درمیان جو کچھ ہے ان سب کو کسی حقیقی مصلحت اور ایک مقررہ وقت تک کے لئے پیدا کیا ہے۔ مگر لوگوں میں سے اکثر اپنے پروردگار کی ملاقات سے منکر ہیں۔

مُعَمَّرُ بْنُ خَلَّادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْحَسَنِ الرِّضَا ع يَقُولُ‌ لَيْسَ الْعِبَادَةُ كَثْرَةَ الصَّلَاةِ وَ الصَّوْمِ وَ إِنَّمَا الْعِبَادَةُ التَّفَكُّرُ فِي أَمْرِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَل
‌(ورام بن أبي فراس، مسعود بن عيسى، تنبيه الخواطر و نزهة النواظر المعروف بمجموعة ورّام؛ ج‌2 ؛ ص183)
معمر بن خلاد کہتے ہیں: میں نے ابا الحسن رضاࣿ کو فرماتے ہوئے سنا:
زیادہ نمازیں پڑھنا اور زیادہ روزے رکھنا عبادت نہیں کہلاتا ہے بلکہ حقیقی عبادت خدائے عز و جل کے کاموں میں غور و فکر کرنا ہے۔
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عليه السلام، قَالَ:
«أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ إِدْمَانُ‌ التَّفَكُّرِ فِي اللَّهِ‌ وَ فِي قُدْرَتِهِ»
(الكافي (ط – دارالحديث) ؛ ج‌3 ؛ ص141)
سب سے بڑی عبادت اللّٰہ کے بارے میں اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں مسلسل غور و فکر کرنا ہے۔

دور تک روشنی ہے غور سے دیکھ
موت بھی زندگی ہے غور سے دیکھ
(اختر انصاری)

ہماری درخواست ہے کہ ہم سب قرآن کی تلاوت باترجمہ اپنا معمول بنائیں اور
دعا ہے کہ پروردگار ہم سب کو اپنی زندگیوں کو قرآن کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی “

تبصرہ کریں