عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ (عَلَيْهِمُ السَّلَامُ)، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) يَقُولُ: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، فَاطْلُبُوا الْعِلْمَ فِي مَظَانِّهِ، وَ اقْتَبِسُوهُ مِنْ أَهْلِهِ، فَإِنْ تَعَلُّمِهِ لِلَّهِ حَسَنَةً، وَ طَلَبِهِ عِبَادَةِ، وَ الْمُذَاكَرَةِ فِيهِ تَسْبِيحٌ، وَ الْعَمَلُ بِهِ جِهَادِ، وَ تَعْلِيمُهُ مِنْ لَا يَعْلَمُهُ صَدَقَةَ، وَ بَذَلَهُ لِأَهْلِهِ قُرْبَةٌ إِلَى اللَّهِ (تَعَالَى)، لِأَنَّهُ مَعَالِمَ الْحَلَالِ وَ الْحَرَامِ، وَ مَنَارُ سُبُلِ الْجَنَّةِ، وَ المؤنس فِي الْوَحْشَةِ، وَ الصَّاحِبِ فِي الْغُرْبَةِ وَ الْوَحْدَةِ، وَ الْمُحْدِثُ فِي الْخَلْوَةِ، وَ الدَّلِيلُ فِي السَّرَّاءِ وَ الضَّرَّاءِ، وَ السِّلَاحَ عَلَى الْأَعْدَاءِ، وَ الزَّيْنَ عِنْدَ الأخلاء-(طوسى، محمد بن الحسن، الأمالي؛ النص ؛ ص488)
امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا:
”علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد عورت پر فرض ہے “
پس جہاں جہاں علم کے ہونے کا گمان ہو وہاں تلاش کرو
اور صاحبان علم سے اس کا اقتباس کرو
کیونکہ اللّٰہ کی رضا کے لیے تعلیم دینا حسنہ ہے
اور علم حاصل کرنا عبادت ہے
اور علمی گفتگو کرنا تسبیح
اور اس پر عمل کرنا جہاد ہے
اور جو نہیں جانتے انہیں تعلیم دینا صدقہ ہے
اور جو صلاحیت رکھتے ہیں ان تک علم پہنچانا قرب الہی کا سبب ہے
کیونکہ وہ حلال اور حرام کی تعلیم دینے والا ، بہشت کی راہ دکھانے والا اور تنہائی میں مونس ہے۔
پردیس میں دوست، خلوت میں باتیں کرنے والا رفیق، مشکلات اور آسانیوں میں راستہ دکھانے والا، دشمن کے مد مقابل سپر اور دوستوں کے پاس زینت ہے
جان کا صرفہ ہو تو ہو لیکن
صرف کرنے سے علم بڑھتا ہے
(عبد العزیز)
قُلۡ رَّبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا﴿طہ / ۱۱۴﴾
پروردگار میرے علم میں اضافہ کر:
یہ جملہ ایک تعلیم، ایک نمونہ عمل ہے۔
آداب بندگی، ایک رہنمائی ہے۔
ایک فکر ہے کہ اس صفحہ ہستی کا موجود اول اپنے علم میں اضافے کے لیے دست سوال دراز کرتا ہے۔ یہ
حصول علم کے لیے ایک اسوہ ہے۔
علم کی اہمیت کے لیے ایک درس ہے۔
اللّٰہ کے بعد اس کائنات میں سب سے زیادہ علم رکھنے والی ہستی مزید علم کے لیے سوال کرتی ہے تو بے علم لوگوں کو حصول علم کے لیے کیا کچھ نہیں کرنا چاہیے۔
اس میں آداب بندگی ہے کہ علم خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو،
اللّٰہ کے سامنے عاجزی کرنی چاہیے۔
انسان کی پوری زندگی زِدۡنِیۡ عِلۡمًا پر مشتمل ہونی چاہیے۔
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی “
