اصول دین میں تحقیق ہے
فروع دین میں تقلید ہے
نقش بر دل معنی تو حید کن
چارہ کار خود از تقلید کن
ترجمہ: توحید کا مطلب اپنے دل پر نقش کر لے
اور تقلید سے اپنے طر زِ عمل کو درست کر لے
(علامہ اقبال)
اور شیطان نے ہم لوگوں کو یہیں بہکادیا کہ ہم فروع میں تحقیق کرتے ہیں اس طرح کہ فجر کی نماز دو رکعت کیوں ہے مغرب کے تین رکعت کیوں؟
روزہ قصر کیوں ہے وغیرہ وغیرہ
اور اصول دین جس میں تحقیق کرنا ضروری ہے وہاں ہم تقلید کرتے ہیں آباؤ اجداد کی، اپنے والدین کی کہ انہوں نے کہا اللّٰہ ایک ہے وہ عادل ہے ایک لاکھ چالیس ہزار انبیاء ہیں امامت اور قیامت ہے کیونکہ والدین نے یہی سیکھایا ہے
یوں والدین اور بزرگ کی تقلید کرنے لگے تحقیق کے بجائے
شیطان نے بھی بڑی پلاننگ سے ہم مسلمانوں کو ابتداء میں ہی بہکا دیا اب اسکا کام ختم۔
کیئے جائیں عبادات تحقیق کرکر کے
اور عقائد بنائیں ہم تقلید کرکے 🙏
افسوس؎
ہربات یہاں کی الٹی ہے
یاں الٹی گنگا بہتی ہے۔
بہرحال اصول دین میں تقلید ناجائز ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ اس سلسلہ میں علماء و مجتہدین کی طرف رجوع کرنا شجرہ ممنوعہ ہے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ رجوع تو اصول و فروع دین میں بہرحال علماء اعلام ہی کی طرف کرنا ہے، ہاں اصول و فروع میں فرق صرف اس قدر ہے کہ فروع دین میں بلا تقاضائے دلیل ان کا حکم ماننا لازم ہے مگر اصول دین میں دلیل کا تقاضا کیا جائے گا تاکہ عقیدہ بالدلیل ہو نہ کہ بالتقلید۔
نئی تحقیق نے قطروں سے نکالے دریا
ہم نے دیکھا ہے کہ ذروں سے زمانے نکلے
(اکمل امام)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
