حَی عَلی الصَّلاةِ "۔” حَیّ عَلی الْفَلاحِ "۔” حَیَّ عَلی خَیرِ الْعَمَلِ "

آج ایک تحریر پڑھی جو کہ دل کو چھو گئی سوچا سب سے شیئر کی جائے

ندائے بندگی
ہم نے ابھی نماز شروع ہی کی تھی یعنی اپنے مالک سے بات شروع کی تھی کہ
اچانک سیل فون (موبائل ) کی گھنٹی بجی نظر پڑی جس کا انتظار تھا یا جس سے ہم بہت محبت کرتے ہیں یا جس کا ہم بہت احترام کرتے ہیں اس کی کال ہے
فورا پریشان ہوتے ہیں کہ کیسے اسکو جواب دیں
سوچتے ہیں کہ اسکو جواب نہ دینا گویا اسکی بے احترامی
اور ممکن ہے کہ اگر اسکو فوری جواب نہ دیا تو وہ ناراض بھی ہو جائے
اور پھر آخر نماز یعنی "السَّلامُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ‏ وَبَرَكاتُهُ” تک کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہوتا

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھیں
اپنے دوست سے باتیں کر رہے ہیں، اذان کی آواز آئی
خدائے بزرگ و برتر کی کال ہے
ایک دفعہ۔ دو دفعہ۔۔ تین دفعہ ۔۔۔ چار دفعہ ۔۔۔۔
مسلسل گھنٹی بج رہی ہے
حَیّ…حَیّ….حَیّ….حَیّ….
بندے جلدی کرو میری کال ہے
ہیلو ہیلو
میں انتظار کر رہا ہوں، کہاں ہو میرے بندے ؟

اب سچ سچ بتایئے گا
کہ ہم کتنے پریشان ہوتے ہیں کہ فورا اللّٰہ کی کال کا جواب دیں؟ کبھی سوچا کہ اگر اسکا جواب نہ دیا تو ممکن ہے اسکی بے احترامی ہو جائے
اے کاش جب اذان کی آواز آئے تو، بے قرار ہو کر عشق کے ساتھ، اس طرح اسکی جانب بڑھیں جیسے کسی دوسرے کام یا بات کی سمجھ ہی نا آ رہی ہو اور وہ بھی فوری پہلی ہی کال پر، اول وقت پر لبیک اللھم لبیک۔

مثلا ہم کسی ڈاکٹر کے پاس گئے اور کہا کہ جتنی بھی آپ نے دوائیاں دی سب کھائی لیکن کوئی خاص افاقہ نہیں ہوا
ڈاکٹر نے پوچھا کہ کیا ساری دوائیاں صحیح وقت اور اولین فرصت پر کھائی تھیں؟
ہم نے کہا، نہیں، ٹائم آگے پیچھے ہو جاتا تھا
ڈاکٹر کی معنی خیز تاثرات کے بعد ہمیں پہلی دفعہ یہ بات سمجھ آئی کہ نماز ہمیشہ اول وقت۔۔
اور پھر جب ہم نے گھر آکے نماز پڑھنی شروع کی تو تھوڑی ہی دیر بعد ہمارا چھوٹا بیٹا جو کہ جائے نماز کے قریب کھیل رہا تھا اس نے مسلسل ہمیں پکارنا شروع کر دیا جبکہ ہم اسکا جواب نہیں دے پا رہے تھے
اتنی دیر میں اسکی بڑی بہن آئی اور اپنے چھوٹے بھائی سے کہنے لگی، ”جب دو لوگ آپس میں بات کر رہے ہوں تو انکو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہیے“
بابا، اللّٰہ سے بات کر رہے ہیں انکی گفتگو میں خلل مت ڈالو۔
اسکی بات سن کر ہمارا پورا بدن لرزنے لگا
جسکے سامنے کھڑے تھے اسکی عظمت اور بزرگی
اور اپنا آپ حقیر پن اور شرمندگی محسوس ہونے لگی

تحریر کو بغیر تبدیلی کے آگے سینڈ کرنا آپکی بلند شخصیت کی علامت ہے
(میم۔ نون۔ خان کی تحریر سے اقتباس)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں