مایوسی کفر ہے؟
یہ جملہ ہم سب نے اکثر سنا ہے، شاید یہ جملہ قرآن کی اس آیت کی وضاحت ہو، جس میں اللَّه نے فرمایا،،
وَ لَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنْ رَوْحِ اللَّهِ ۖ إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ۔
رحمت پروردگار سے مایوس نہ ہونا کہ اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا ہے
(سورہ یوسف /87)
وَ لَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ: اللّٰہ سے مایوس ہونے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس کی قدرت و طاقت محدود ہے اور یہ کفر ہے۔ مثلاً یہ تصور کرنا کہ بیس درہم میں فروخت ہونے والے یوسف علیہ السلام کا اتنی مدت کے بعد ملنا ممکن نہیں ہے، مایوسی ہے اور یہ کہنا کہ اللّٰہ کے لیے یہ کام ممکن نہیں ہے، کفر ہے، اللّٰہ کی قوت و قدرت کی نفی ہے۔
جیسا کہ اللّٰہ کی قدرت بے پایاں ہے اس کی رحمت بھی بے پایاں ہے۔
یہاں یاس کی گنجائش ہی نہیں ہے: اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ
(تفسیر الکوثر)
یقیناً اللَّه کی رحمت ایک عظیم تحفہ ہے۔
مگر یہ مایوسی کیا ہے؟
کیا بیماری کے بعد صحت نہ آنا ہی مایوسی ہے؟
کیا غربت کے بعد دولت کا نہ ملنا مایوسی ہے؟
یا پھر۔۔
ایک وقت بھوکا رہ کر دوسرے وقت کے لیے نہ پانا مایوسی ہے؟
ہمارا خیال ہے شاید یہ ہی نہیں۔۔
بلکہ مایوسی یہ بھی ہے، کہ ایک گناہ کر لیا جائے اور خیال کیا جائے کہ یہ معاف نہیں ہوگا،
کوئی دعا کرنے کا کہے اور جواب یہ دیا جائے کہ ہماری دعائیں کہاں قبول ہوتی ہیں،
اللَّه کی طرف قدم بڑھایا جائے اور یہ سوچا جائے کہ شاید وہ دور ہو رہا ہے،
یہ بھی مایوسی ہے،
شاید مایوسی کی بھیانک شکل ہے،
اور ہم اسی مایوسی میں جیتے ہیں،
اور یہ بھول جاتے ہیں،
مایوسی کفر ہے۔۔۔
ہماری دعا ہے
پروردگار ہم سب کو مایوسی اور ناامیدی سے دور رکھنا
آمین یا رب العالمین
کبھی مایوس ہوجاؤ
تو رب سے گفتگو کرنا
کبھی سجدے میں جھک جانا
کبھی قرآن پڑھ لینا
مگر مایوس نہ ہونا
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

بہترین تحریر۔۔۔ یہ وال پہ بھی پڑھی تھی
پسند کریںLiked by 1 person