”گفتگو کے آداب قرآن میں:“

اسلام کے وہ بنیادی اصول جن کا تعلق گفتگو کے آداب سے ہے۔
1- گفتار کو کردار کے ساتھ ہونا چاہیے وگرنہ یہ قابل سرزنش ہے-
لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُونَ
‎تم وہ بات کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں ہو
(سورہ صف، 2)
2- گفتار کو تحقیق کے ہمراہ ہونا چاہے۔ ہدہد نے حضرت سلیمان ـ سے کہا کہ میں تحقیق شدہ اور یقینی خبر لایا ہوں۔
بِنَبَاٍ یقین
‎یقینی خبر
(سورہ نمل، 22)
3- گفتار کو دل پسند ہونا چاہیے۔
الطّیّب مِنَ الْقَول
پاکیزہ گفتار
(سورہ حج، 24)
4- گفتار کو رسا اور شفاف ہوناچاہیے۔
قولاً بَلِیْغًا
‎ایسی باتیں جو مؤثر ہوں۔
(سورہ نساء، 63)
5- گفتار کو نرم لہجے میں بیان کیا جائے۔
قولاً لَیّنًا
‎نرم لہجے میں بات کرنا
(سورہ طہ، 44)
6- گفتار کا انداز بزرگوارانہ ہو۔
‎ قَوۡلًا کَرِیۡمًا
‎عزت و تکریم کے ساتھ بات کرنا۔
(سورہ بنی اسرائیل ، 23)
7- گفتار کو قابل عمل ہونا چاہیے-
قَوۡلًا مَّیۡسُوۡرًا
نرمی کے ساتھ بات
(سورہ بنی اسرائیل، 28)
8- سب کے لیے اچھی بات کی جائے نہ کہ فقط خاص گروہ کے لیے-
قُوۡلُوۡا لِلنَّاسِ حُسۡنًا
‎لوگوں سے حسن گفتار
(سورہ البقرہ، 83)
9- اپنی گفتار میں بہترین انداز اور مطالب کا انتخاب کیا جائے۔
یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ
‎وہ بات کرو جو بہترین ہو
(سورہ اسراء، 53)
10- گفتار میں لغویات اور باطل کی آمیزش نہ ہو۔
اجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ
‎اجتناب کرو اور جھوٹی باتوں سے
(سورہ حج، 30)
اور
عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ
‎لغویات سے منہ موڑنا
(سورہ مومنون، 3)
اقتباس: آداب واخلاق(محسن قرآئینی)

بلبل غزل سرائی آگے ہمارے مت کر
سب ہم سے سیکھتے ہیں انداز گفتگو کا

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں