جب اللّٰہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس بھیجا،
فَقُوۡلَا لَہٗ قَوۡلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوۡ یَخۡشٰی۔ (سورہ طہ/44)
پس دونوں اس سے نرم لہجے میں بات کرنا شاید وہ نصیحت مان لے یا ڈر جائے۔
کون مان جاۓ؟
وہ انسان جس سے زیادہ متکبر اور گھمنڈ والا شخص دنیا میں اور کوئی نہیں آیا
اگرچہ فرعون سرکش ہو گیا ہے تاہم گفتگو میں پھر بھی نرمی ہو کیونکہ انداز کلام میں اگر شیرینی نہیں ہے تو مضمون کلام خواہ کتنا ہی منطقی اور معقول کیوں نہ ہو کلام موثر واقع نہیں ہوتا۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ اللّٰہ خود فرماتا ہے:
اِنَّہٗ طَغٰی فرعون سرکش ہو گیا ہے اس کے ساتھ اللّٰہ کی نرمی کی یہ شان ہے
تو جو شخص اللّٰہ کو رب مانتا ہو اس کے ساتھ اللّٰہ کی نرمی کا کیا حال ہوگا؟
اسلام نے بد کلامی کرنا تو درکنار اگر کوئی بدکلامی کرے تو اس کے جواب میں بھی فحش گوئی سے منع فرمایا بلکہ خاموش رہنے کی تعلیم فرمائی۔
اللّٰہ اپنے محبوب بندوں کے اوصاف جلیلہ اور اخلاق عالیہ میں ایک کی صفت ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے
اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا
اور جب گفتگو کرتے ہیں ان سے جاہل تو وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ تم سلامت رہو (سورۃ الفرقان آیت 63)۔
کپڑے ہمارے جسم کو ڈھانکتے ہیں اور گفتگو ہماری شخصیت کو
کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں
(مرزا سدید)
زبان کی حفاظت جنت میں اور بدزبانی جہنم میں لے جانے والا عمل ہے اگر کسی بندے کے اعتقادات درست ہوں، عبادات میں کثرت ہو، معاملات میں شفافیت ہو لیکن وہ بدزبان ہو تو اس کی یہ بدگوئی ان تمام اعمال صالحہ کی بربادی کا سبب بن سکتے ہیں۔
ہمارے الفاظ، ہماری تربیت، مزاج اور خاندان کا پتا دیتے ہیں۔ ہماری گفتگو سیرت و کردار اور اخلاق و عادات کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ جب ہم گفتگو کرتے ہیں تب ہمارے حسن و قبح سامنے آتے ہیں، ہماری شناخت اور پہچان ہماری گفتگو میں پوشیدہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ہماری گفتگو صاف، واضح اور ہرشخص کے لیے قابل فہم ہو
ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے
تمہیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے
(مرزا غالب)
”زندگی کتنی بدل جاۓ اگر ہم اس بات کو مان جائیں کہ نرمی سے بات کرنے کا مطلب بے وقوفی اور کمزوری نہیں
بلکہ عاجزی اور اعلی ظرفی ہے “
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
