ہمارا ذہن ایک ٹیلی وژن ہے ہزاروں چینلز کی طرح:
اور یہ ہماری مرضی اور خواہش پر منحصر ہے کہ
ہم کس چینل کا انتخاب کریں۔
،نفرت کے چینل کو
،دکھ و تکلیف کے چینل کو
بخشش و درگذر کے چینل کو،
مہربانی کے چینل کو،
خوشی کے چینل کو،
یا وہ چینل کہ جس کو کل دیکھا تھا…
اور
ہمارا ارادہ بالکل ٹیلی وژن کے ریموٹ کنٹرول کی طرح ہے؛
ضمیر و ذہن میں اک سرد جنگ جاری ہے
کسے شکست دوں اور کس پہ فتح پاؤں میں
(کبیر اجمل)
پس ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے ذہن کو اچھے چینل کے انتخاب
سے بہترین بنائیں۔۔
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
