ایامِ فاطمیہْ کے موقع پہ سیرت فاطمہ زہرا سلام اللّٰہ علیہا پہ پوسٹ کا سلسلہ:


(حصہ اول)

” حضرت فاطمہ زہرا (سلام اﷲ علیہا ) کون “

حضرت فاطمہ زہرا (سلام اﷲ علیہا ) کی شخصیت کو پہچاننا اور ان کی شخصیت کا عرفان حاصل کرنا خصوصاً شیعہ خواتین کے لیے ، بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے دینی تعلیمات کو بہتر درک کرنے ، تاریخ اسلام کے نشیب و فراز کو پہچاننے اور اسلام کی تمام تر خوبیوں کو حاصل کرنے کی راہ میں بہت معاون ہے
حضرت فاطمہ زہرا رسول اللّٰہ کے کلام کی روشنی میں
‎ایک باپ سے زیادہ اپنے فرزند اور اولاد کی تعریف کون بیان کرسکتا ہے؟ اور وہ جو اس بات پر بھی قدرت رکھتے ہیں کہ دوسروں کے سامنے اپنے فرزند کو پہچنوا سکیں ۔ ایک ایسا باپ جو خود اپنی زندگی میں بے نظیر ہیں ۔ جن کا قول و عمل اور کردار صداقت کی معراج پر ہے کبھی بے کار کی باتوں میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ وہ کائنات کے اسرا ر و رموز سے آگاہ ، علم کا ٹھا ٹھیں مارتا ہوا سمندر ہیں جو اولین و آخرین کے سر چشمہ علوم یعنی خدائے وحدہ لا شریک سے ہمیشہ رابطہ میں ہے ۔ کتنا اچھا ہو گا کہ حضرت فاطمہ زہرا کی تعریف و توصیف اور منزلت کواس عظیم المرتبت باپ کی زبانی ذکر کریں جو خود خداوند عالم کے نزدیک کائنات میں سب سے زیادہ عزیزو محبوب ہیں ۔

‎ “حضرت فاطمہ زہرا تمام عورتوں کی سردار”
‎پیغمبر اسلام ۖ یعنی امتِ اسلامی کے رہبر و پیشوا آپ کی تعریف میں فرماتے ہیں :
‎فاطمہ زہراْ اس امت کی عورتوں کی سردار ہیں (حسینی فیروزآبادی، سید مرتضٰ؛ فضائل الخمسة، ج٣، ص١٣٧، طبع الثالثہ، بیروت، مؤسسة الاعلمی للمطبوعات، ١٣٩٣ق.)
‎درحقیقت حضرت زہرا پیغمبر اکرم ۖ کے اس فرمان کی روشنی میں مسلمان خواتین کی سردار ہیں۔

‎ “حضرت فاطمہ زہرا انسان کامل”
‎رسول اللّٰہ سے نقل ہے کہ آپ نے فرمایا
‎مردوں میں بہت سوں نے کمال کی بلندی کو حاصل کیا لیکن صنف نسواں میں چار عورتوں کے علاوہ کسی نے بھی انسان کامل کے مقام کو حاصل نہیں کیا ان چارخواتین میں ایک آسیہ بنت مزاحم ہمسر فرعون ،
‎دوسری حضر ت مریم بنت عمران،
‎تیسری خدیجہ بنت خویلد اور
‎چوتھی حضرت فاطمہ زہرا بنت محمدٌ ہیں(ثعلبی، احمد، الکشف و البیان، (تفسیر ثعلبی)، تحقیق ابو محمد بن عاشور، ج٩، ص٣٥٣، بیروت دار احیاء التراث العربی، ٤٢٢ق.).
‎دوسرے لفظوں میں پیغمبر اسلام ان چاروں کو تمام عورتوں کے لئے زندگی کے ہر مرحلہ میں ، روز اول سے آنے والی تمام خواتین کے لئے نمونہ عمل کی صورت میں پہچنوا رہے ہیں تاکہ عورتیں اپنی زندگی کے تمام امور میں ان کی تأسی و پیروی کرکے کمال کی بلندیوں کو حاصل کرسکیں۔

”حضرت فاطمہ زہراࣿ کمال حسن و نیکی“
پیغمبر اکرم ۖ حضرت فاطمہ زہراْ کی شخصیت کو پہچنواتے ہوئے فرماتے ہیں :
اگر تمام طرح کی نیکیوں اور حسن و جمال کو کسی ایک پیکر میں دیکھا جائے تو یقینا وہ صرف حضرت فاطمہ زہراࣿ کا وجود مطہر ہے جس میں دونوں چیزیں بطور اتم موجود ہیں۔ میری بیٹی فاطمہ زہراࣿ لوگوں میں کرامت و شرافت کے اعتبار سے سب سے بہتر ہے ۔(ابن احمد مکی، موفق؛ مقتل الحسین خوارزمی، تحقیق: محمد سماوی، ج١، ص١٠٠، قم: انوار الھدیٰ، ١٤١٨ق.
جوینی خراسانی، ابراہیم بن محمد، فرائد السمطین، تحقیق: محمد باقر محمودی، ج٢، ص٦٨، بیروت: موسسة المحمودی للطباعة و النشر ١٤٠٠ق.)
پیغمبر اکرمٌ کی یہ حدیث حضرت فاطمہ زہراࣿ کے بے شمار کمالات کو بیان کررہی ہے ۔ یعنی حضرت فاطمہ زہراࣿ میں ہر طرح کی نیکی و خوبی ،اخلاق و تواضع ، خوش خلقی وملنساری اور کمالات انسانی کے تمام مدارج پائے جاتے ہیں ۔ ہر وہ چیز جو دین اسلام کے کمال کو حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے آپ میں موجود ہیں ۔
اقتباس

زہراْ ہیں یوں خیال سخن ور کے آس پاس
خوشبوئے پاک جیسے گل تر کے آس پاس
(نوشہ امروہوی)

پروردگار تمام خواتین کو اسوۂِ فاطمہ زہراْ پہ چلنے کی توفیق عطا فرما
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں