” ظلم، ظالم اور مظلوم “

مظلوم کا ساتھ نہ دینا بھی ظلم ہے اور اس وقت حکومت وقت بھی ان شہداء کے لواحقین کے ساتھ ظلم کررہی ہے اور اپنے کو ظالم ثابت کررہی ہے
اسلام عدل و انصاف کا عَلَم بردار ہے ، اس نے سماج میں لازمی طور پر عدل قائم کرنے کا حکم دیا ہے ، چاہے معاملہ اپنے خلاف ہو ، یا اپنے رشتے داروں اور قریبی لوگوں کے خلاف ، یا اپنے دشمنوں کے خلاف، اسی طرح وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے ، ظالموں کا ہاتھ پکڑنے اور مظلوموں کی حمایت کرنے کا تاکیدی حکم دیتا ہے
اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
اللّٰہُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیۡنَ ( آل عمران : 140)
اللّٰہ ظالموں کو دوست نہیں رکھتا۔

اسلام نے تاکیدی حکم دیا ہے کہ کسی پر ظلم ہورہا ہو تو ظالم کا ہاتھ پکڑا جائے اور مظلوم کی حمایت کی جائے
کسی پر ظلم کرنا بہت سنگین جرم ہے، گناہِ کبیرہ ہے،

وَ کَذٰلِکَ اَخۡذُ رَبِّکَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰی وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ؕ اِنَّ اَخۡذَہٗۤ اَلِیۡمٌ شَدِیۡدٌ (سورہ ہود /102)
اور آپ کے رب کی پکڑ اسی طرح ہے جب وہ کسی ظالم بستی کو اپنی گرفت میں لیتا ہے، تو اس کی گرفت یقینا دردناک اور سخت ہوا کرتی ہے۔

ظالم کا مقابلہ اور مظلومین کی حمایت اور مدد تمام انبیاء کا مشن رہا ہے _ قرآن مجید میں حضرت نوح ، حضرت ہود ، حضرت صالح ، حضرت لوط ، حضرت شعیب علیہم السلام اور دیگر انبیاء کی سرگزشت تفصیل سے بیان کی گئی ہے _ ہر نبی نے اپنی قوم کو شرک و بت پرستی اور دیگر برائیوں سے روکا اور ساتھ ہی ظلم سے باز رہنے کی بھی تاکید کی

ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

ظالم کو جو نہ روکے وہ شامل ہے ظلم میں
قاتل کو جو نہ ٹوکے وہ قاتل کے ساتھ ہے
ہم سر بکف اٹھے ہیں کہ حق فتح یاب ہو
کہہ دو اسے جو لشکر باطل کے ساتھ ہے
اس ڈھنگ پر ہے زور تو یہ ڈھنگ ہی سہی

ظالم کی کوئی ذات نہ مذہب نہ کوئی قوم
ظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہے
پھلتی نہیں ہے شاخ ستم اس زمین پر
تاریخ جانتی ہے زمانہ گواہ ہے
کچھ کور باطنوں کی نظر تنگ ہی سہی

یہ زر کی جنگ ہے نہ زمینوں کی جنگ ہے
یہ جنگ ہے بقا کے اصولوں کے واسطے
جو خون ہم نے نذر دیا ہے زمین کو
وہ خون ہے گلاب کے پھولوں کے واسطے
پھوٹے گی صبح امن لہو رنگ ہی سہی
(ساحر لدھیانوی)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں