مصیبت زدہ انسان کی مصیبتوں کو آسان بنانے کے کچھ طریقے ہیں

ان میں سے اہم ترین طریقے حسب ذیل:

الف۔۔ مصیبت پر صبر کرنا:
صبر، زندگی میں انسان کا بھروسا ہے۔ صبر کی قسموں میں سے ایک ، مصیبت پر صبر کرنا ہے [ ارشاد القلوب الی الصواب، ج 1، ص 126 ]
اس کی قرآن مجید کی آیات اور احادیث کے مطابق قدر و منزلت اور ثواب ہے اور اس کے نتائج پر توجہ کرنا انسان کے لیے اپنے عزیز و اقارب کی موت سے پیدا ہوئے غم و آلام کو ہلکا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
چند آیات و روایات:
پروردگار قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
‎سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ بِمَا صَبَرۡتُمۡ فَنِعۡمَ عُقۡبَی الدَّارِ
(اور کہیں گے) تم پر سلامتی ہو یہ تمہارے صبر کا صلہ ہے، پس عاقبت کا گھر کیا ہی عمدہ گھر ہے۔[رعد/24]”
‎وَ لَنَبۡلُوَنَّکُمۡ بِشَیۡءٍ مِّنَ الۡخَوۡفِ وَ الۡجُوۡعِ وَ نَقۡصٍ مِّنَ الۡاَمۡوَالِ وَ الۡاَنۡفُسِ وَ الثَّمَرٰتِ ؕ وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ
"اور ہم یقیناً تمہیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اور ثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور {اے پیغمبر} ان صبر کرنے والوں کو بشارت دیں ، (سورہ البقرہ/155)
الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
جو مصیبت پڑنے کے بعد کہتے ہیں ہم اللّٰہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں، (سورہ البقرہ/156)
‎اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ رَحۡمَۃٌ ۟ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُہۡتَدُوۡنَ
کہ ان کے لیے پروردگار کی طرف سے صلوات اور رحمت ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔”(سورہ البقرہ/157)
۲۔ امام علی{ع} فرماتے ہیں: ” سب سے بڑی دوراندیشی، مصیبتوں پر صبر کرنا ہے۔( غررالحکم درر الكلم، ص 283)
"ایمان کے خزانوں میں سے ایک ،مصیبتوں پر صبر کرنا ہے” (غررالحکم درر الكلم، ص 282)
مصیبتوں پر صبر کرنا {انسان کو} کئی گنا شرافت و عظمت بخشتا ہے“۔(غررالحکم درر الكلم، ص 262)

ب۔ موت کو حقیقت سمجھنا اور اس پر فکر کرنا:
اس حقیقت کو سمجھنا چاہئیے اور اس پر غور و فکر کرنا چاہئیے کہ موت ہر ایک کے لیے ہےاور یہ ایک حقیقت ہے:
كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُونَ
ہر نفس موت کا مزہ چکھنے والاہے اس کے بعد تم سب ہماری بارگاہ میں پلٹا کر لائے جاؤ گے (عنکبوت، 57)
چونکہ تمام مخلوقات، خداوندمتعال کی تجلی ہیں اور اسی سے ہیں اور آخرکار اس کی طرف پلٹ کر جائیں گے:
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
” ہم اللّٰہ ہی کے لیے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں۔ (سورہ البقرہ/156)
انسان کے خدا پر ایمان کی نشانیوں میں سے ، قرآن مجید کا مذکورہ جملہ دہرانا ہے کہ یہ معاد کی یاد دلاتا ہے، دل کو تسکین و آرام بخشتا ہے، اور جس قدر اس کی تلقین کی جائے حقیقت کے قریب تر ہوگا، غم و اندوہ کو دور کر کے دل کو آرام و سکون بخشے گا۔

ج۔ مُردوں کے لیے نیک اعمال بجا لانا:
احادیث میں مُردوں کے لیے نیک اعمال بجا لانے کی فہمائش کی گئی ہے کہ ان میں بعض شرائط اور حالات کے مطابق واجب ہیں اور بعض مستحب۔ روایتوں میں ارشاد کیے گیے مستحب اعمال کے چند نمونوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے

۱۔ صدقہ دینا:
بنی صاعدہ کے ایک شخص کی ماں مر گئی تھی، اس نے رسول اللّٰہ {ص} کی خدمت میں عرض کی: میری عدم موجودگی میں میری ماں فوت ہو چکی ہے، اگر میں کوئی چیز صدقہ کے طور پر دیدوں تو کیا اسے کوئی فائدہ ملے گا؟
آنحضرت{ص} نے فرمایا: جی ہاں (بیان المعانی، ج 1، ص 203)

۲۔ قرآن مجید پڑھنا:
پیغمبراکرم{ص} نے فرمایا ہے: ” جو بھی قبرستان سے گزرے اور گیارہ مرتبہ ”
قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ
{سورہ توحید } پڑھے اور اس کا ثواب مُردوں کو بھیج دے، تو مُردوں کی تعداد میں اسے ثواب ملے گا۔ (مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، ج 10، ص 368)

۳۔ نیک کام انجام دینا:
امام صادق{ع} نے فرمایا ہے: ” صدقہ، دعا اور نیکی مُردوں کو پہنچتی ہے اور اس کا اجر یہ کام انجام دینے والے اور میت کو ملتا ہے ( عاملی، شیخ حر، وسائل الشیعة، ج 8، ص 279 )
اگر کوئی مسلمان مُردوں کی نیابت میں کوئی نیک عمل انجام دے،خداوندمتعال تو اس کے اجر کو کئی گنا کرتا ہے اور اس سے مرُدوں کو بہرہ مند کرتا ہے۔ (حلّی، ابن فهد، عدة الداعی، ص 146)

۴۔ نماز وحشت پڑھنا:
شب اول قبر میں، میت کے لیے دو رکعت نماز وحشت نماز ھدیہ میت شب دفن۔ (وسائل الشیعة، ج 8، ص 168 ) پڑھنا مستحب ہے اور اس کا طریقہ مراجع تقلید کی توضیع المسائل میں بیان کیا گیا ہے
۔ اس بنا پر نما زوحشت، شب اول قبر مستحب ہے اور دوسرے اوقات میں اپنے والدین کو ثواب بھیجنے کے لیے دوسرے مستحب اعمال بجا لا سکتے ہیں تاکہ ہمارے والدین کی روح کو آرام و سکون ملے۔
(اقتباس)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں