دعا کی اہم ترین خصوصیت
اللّٰہ سے رابطہ اوراس کے سامنے عبد ہونے کا احساس ہے۔
دعا کی سب سے بڑی خاصیت یہی ہے,
اللّٰہ سے ہم مانگیں گے تو وہ بھی ہماری دعا کو قبول کرے گا
قبولیتِ دعا میں اللّٰہ کی جانب سے کوئی شرط نہیں ہے
ہم اپنی بد اعمالیوں کے باعث قبولیتِ دعا میں رکاوٹ بن جاتے ہیں،
ہم باعث بنتے ہیں کہ ہماری دعا قابل اعتنا قرارنہ پائے یہ بات بھی ہمیں خود دعا سکھاتی ہے دعا کی یہ بھی ایک خاصیت ہے۔
دعا اللّٰہ کے سامنے بندگی کا مظہراورانسان کے اندر احساسِ بندگی اجاگرکرنے کا ذریعہ ہے۔
اوروں کی برائی کو نہ دیکھوں وہ نظر دے
ہاں اپنی برائی کو پرکھنے کا ہنر دے
(خلیل تنویر)
تمام انبیائے الہی کی محنتیں اور مشقتیں اسی لئے تھیں کہ انسانوں کے اندرعبودیت کا احساس پیدا ہوجائے۔ انسان کے ہر انفرادی و اجتماعی صالح عمل اور ہر فضیلت و کمال کی بنیاد اس کے اندر اللّٰہ کے عبد ہونے کا احساس ہے۔
اس کی ضد ہے انانیت، غرور، تکبر، خود پرستی،
انانیت ہی اخلاقی برائیوں اوران سے پیدا ہونے والی صورتحال کی بنیاد ہے
جنگیں، قتل عام، مظالم یا دیگر المیے، ماضی میں ہوئے ہوں (جن کے متعلق ہم نے تاریخ میں پڑھا) یا آج جو ہورہے ہیں (جو ہم خود دیکھ رہے ہیں) ان سب کی بنیاد چند انسانوں کی انانیت اورخودغرضی ہے، انہیں کا وجود اس سارے فتنہ و فساد کی جڑ ہے۔ اس کے مقابلہ میں ہے عبودیت،
اللّٰہ کے مقابلہ میں اگر انسان میں انانیت اور انا پرستی آجائے
یعنی انسان خود کو اللّٰہ کے مقابلہ میں سمجھنے لگے
تو نتیجہ طغیانی و سرکشی ہے۔
طاغوت صرف بادشاہ نہیں ہیں ہوسکتا ہے ہم میں سے ہر ایک (خدانخواستہ) اپنے اندر ایک بت اورطاغوت پال رہا ہو!
اللّٰہ کےسامنے انانیت دکھانے کا نتیجہ انسان کا اپنے لئے طاغوت بن جانا ہے اوراگر دوسرے انسانوں کے سامنے انانیت دکھائی جائے تو اس کا نتیجہ دوسروں کے حقوق سے غفلت ہی نہیں
بلکہ ان کے حقوق پر شب خون مارنا ہے
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ، امام حسن علیہ السلام سے وصیت کرتے ہوئے یہی فرماتے ہیں
” اعْلَمْ أَنَّ الَّذِي بِيَدِهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ قَدْ أَذِنَ لَكَ فِي الدُّعَاءِ وَ تَكَفَّلَ لَكَ بِالْإِجَابَةِ،“
وہ اللّٰہ، جس کے قبضہ قدرت میں آسمان وزمین ہے اس نے تمہیں دعا اور اپنے سے گفتگوکی اجازت دی ہے
”وَ أَمَرَكَ أَنْ تَسْأَلَهُ لِيُعْطِيَكَ “
اوراس نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے مانگو تاکہ وہ تمہیں عطا کرے۔ (بحارالانوارجلد ۷۴ صفحہ ۲۰۵،)
(اللّٰہ سے اس طرح رابطہ رکھنےسے کہ اس سے مانگا جائے اور وہ عطا کرے انسان کے اندرعبودیت و بندگی کا احساس مضبوط ہوتا ہے )
”وَ تَسْتَرْحِمَهُ لِيَرْحَمَكَ؛ وَ لَمْ يَجْعَلْ [بَيْنَهُ وَ بَيْنَكَ] بَيْنَكَ وَ بَيْنَهُ مَنْ يَحْجُبُكَ عَنْهُ“
اس رحیم وکریم نے اپنے اورتمہارے درمیان کوئی حجاب یا واسطہ نہیں رکھا ہے (بحارالانوارجلد ۷۴ صفحہ ۲۰۵، ترجمه و شرح نامه 31 نهج البلاغه (نامه امام علی به امام حسن) )
جب بھی ہم اللّٰہ سے مناجات کریں گے وہ ہماری عرض اور آواز سنے گا اللّٰہ سے ہمیشہ گفتگو کی جاسکتی ہے،
ہمیشہ اس سے مانوس رہا جا سکتا ہے،
ہمیشہ اس سے مانگا جا سکتا ہے
انسان کے لئے یہ بہت بڑا موقع اور بہت بڑی نعمت ہے۔
(اقتباس)
ہزار بار جو مانگا کرو تو کیا حاصل
دعا وہی ہے جو دل سے کبھی نکلتی ہے
(داغ)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
