اچھے مبلغ (استاد، خطیب اور علماء ) کے صفات:
جن کو وارثِ انبیاء بھی کہا جاتا ہے:-
قرآن میں ارشاد ربانی ہے:
وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو خیر کی دعوت اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں (آلِ عمران/104)
کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ
تم بہترین امت ہو جو انسانوں کے لیے نکالی گئی ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللّٰہ پر ایمان رکھتے ہو۔ ( آل عمران: 110 )
اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ
” اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھے وعظ کے ساتھ دعوت دیں ۔ ( النحل: 125 )
صفاتِ مبلغ:-
1۔ اخلاص۔ 2۔ استقامت و پائیداری۔ 3۔ قصہ گوئی اور مثالوں کے ذریعہ بات کو سمجھانا۔ 4۔ شرح صدر۔ 5۔ علم و عمل سے آراستہ ہو۔ 6۔ سادہ زندگی بسر کرتا ہو۔ 7۔ بے تکلف ہو۔ 8۔ ماضی اچھا رہا ہو۔ 9۔ تواضع و فروتنی رکھتا ہو۔ 10۔ صاف ستھرا ہو۔ 11۔ دلسوز (ہمدرد) ہو۔ 12۔ یقین محکم رکھتا ہو۔ 13۔ نیک کاموں میں آگے آگے رہے۔ 14۔ گفتگو میں قصہ و داستان سے استفادہ کرے۔ 15۔ مختلف نمونوں کو پیش کرے۔ 16۔ نعمتوں کو یاد دلائے۔
دعوت دین کی ذمہ داری ہر مسلمان مرد اور عورت پر عائد ہوتی ہے ۔ ہم سب معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں سے لوگوں کو روکیں ۔
آیت اللّٰہ فاضل لنکرانی کہتے ہیں کہ :
سب سے اہم مبلغ کا ایمان اور یقین ہے ، ایک مبلغ اور عالم اور خطیب کو چاہئے کہ جو کچھ وہ بیان کرتے ہیں اس پر خود ان کو یقین ہو اور اس پر ایمان رکھتے ہوں،
اگر لوگوں کو اللّٰہ کی طرف دعوت دیتے ہیں تو خود ان کا اس بارے میں یقین محکم ہو،
اگر قیامت کے بارے میں لوگوں کو بتاتے ہیں، تو وہ خود اس بارے میں یقین محکم رکھتے ہوں ، اگر وہ لوگوں کو نیکی اور اچھی صفات کی طرف دعوت دیتے ہیں تو وہ خود اس پر عمل کرنے والے ہوں۔
انبیاء کی وراثت کی شرط یہی ہے کہ تبلیغ ہو،
یعنی دین کو لوگوں کے لئے بیان کریں،
اگر کوئی مومن ہے اور ان کے پاس علم بھی ہے،
لیکن وہ اپنے گھر میں بیٹھ جائیں،
تو وہ ورثۃ الانبیاء کا عنوان اپنے لئے پیدا نہیں کر سکتے ہیں،
وراثت انبیاء یہ ہے کہ جس طرح بھی ممکن ہو دین کو لوگوں تک پہنچائیں۔
جن کے کردار سے آتی ہو صداقت کی مہک
ان کی تدریس سے پتھر بھی پگھل سکتے ہیں
(شاعر نامعلوم)
ایک مبلغ اور عالم دین کا پورا وجود دین کی حمایت اور شیطان کی دشمنی میں ہونا چاہئے
پروردگار ہم سب میں بھی یہ شعورِ تعلیم عطا فرما
آمین یا رب العالمین
یہ پوسٹ ہم اپنے استادِ محترم محسن بھائی ( Mohsin Naqvi ) کے نام کررہے ہیں اور اس دعا کے ساتھ کہ ان کا سایہ ہمارے سروں پہ تا قیامت قائم رہے آمین
اور ان کی صحت و تندرستی کے لئے صلوات
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
