” صفاتِ مومنین “

” صفاتِ مومنین “

‎اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ
(سورہ الانفال / 2)
مومن تو صرف وہ ہیں کہ جب اللّٰہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب انہیں اس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
(علامہ اقبال)

1۔ نماز میں خضوع وخشوع رکھتے ہیں۔ 2۔ نیکیوں کا حکم اور برائیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں۔ 3۔ راہ خدا میں خرچ کرتے ہیں۔ 4۔ جہاد کا خندہ پیشانی سے استقبال کرتے ہیں۔ 5۔ اچھائیوں میں سبقت کرتے ہیں۔ 6۔ اللّٰہ پر توکل کرتے ہیں۔ 7۔ بلند مرتبہ پر فائز ہوتے ہیں۔ 8۔ لغو و بیہودہ گوئی سے اجتناب کرتے ہیں۔ 9۔ ایک دوسرے کی مدد و اعانت کرتے ہیں۔ 10۔ زکات ادا کرتے ہیں۔ 11۔ اجتماعی عفت و پاکدامنی کا خیال کرتے ہیں۔ 12۔ حمد و تسبیح پروردگار کرتے ہیں۔ 13۔ متواضع ہوتے ہیں۔ 14۔ راتیں تہجد و مناجات میں بسر کرتے ہیں۔ 15۔ یتیموں کے سر پر دست شفقت پھیرتے ہیں۔ 16۔ شکر گزار ہوتے ہیں۔ 17۔ سجدہ گزار ہوتے ہیں۔ 18۔ نماز جماعت میں حاضر ہوتے ہیں۔ 19۔ زکات و خمس کی ادائیگی میں سرعت کرتے ہیں۔ 20۔ تہی دست افراد کو کھانا کھلاتے ہیں۔ 21۔ توبہ کرتے رہتے ہیں۔ 22۔ انکے لباس پاک و پاکیزہ ہوتے ہیں۔ 23۔ اگر کوئی خبر دیں گے تو جھوٹ کی آمیزش نہیں ہوگی۔ 24۔ وعدہ خلافی نہیں کرتے ہیں۔ 25۔ امانت میں خیانت نہیں کرتے ہیں۔ 26۔ سچ بولتے ہیں۔ 27۔ راتیں عبادت میں گزارتے ہیں۔ 28۔ دن میں مثل شیر ہوتے ہیں۔ 29۔ دن روزہ میں گذارتے ہیں ۔ 30۔ راتوں کو عبادت کیلئے بیدار ہوتے ہیں۔ 31۔ پڑوسیوں کو اذیت نہیں دیتے ہیں۔ 32۔ زمین پر آرام و اطمینان سے چلتے ہیں۔ 33۔ بیواؤں کی امداد کرتے ہیں۔ 34۔ جنازہ میں شرکت کرتے ہیں۔ 35۔ تقویٰ پیشہ ہوتے ہیں۔

(یہ ان مومنین کی صفات ہیں جو اللّٰہ کے نزدیک مومن ہیں۔
وہ مومن نہیں جس کو دن رات ہم کہتے ہیں کہ
یہ ہمارے مومن بھائی ہیں )

پروردگار ہم سب کو اللّٰہ کا پسندیدہ مومن بننے کی توفیق عطا فرما
آمین یا رب العالمین

ہاتھ ہے اللّٰہ کا بندہِ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفرین ، کار کشا ، کارساز
(علامہ اقبال)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں