إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
بی بی سیدہ و طاہرہ و معصومہ و مظلومہ فاطمہ زہرا صلوات اللّٰہ علیہ کی شہادت کے موقع پر ہم اور ہماری فیملی رسول اللّٰہ، خانوادہ رسول ع اور خصوصاً وقت کے امام۔ امام زماں عج کی خدمت میں اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو تعزیت پیش کرتے ہیں
”وصیت“
حضرت زہرا سلا م اللّٰہ علیہاکی علالت شدت کر گئی تو حضرت زہراْ نے حضرت علیْ سے کہا یا ابن عم مجھے یقین ہے اب عنقریب میں اپنے والد گرامی سے ملاقات کرونگی لہٰذا میں وصیت کر نا چا ہتی ہوں حضرت علیْ حضرت زہراْ کے قریب آبیٹھے اور فرمایا اے پیغمبر کی بیٹی آپ میرے پاس امانت تھی جو آپ کا دل چاہتا ہے وصیت کیجئے میں آپ کی وصیت کے مطابق عمل کر نے کا عہد کرتا ہوں اس وقت حضرت علیْ کی نظر جناب سیدہ کونین کے افسردہ چہرے پر پڑ ی تو رونے لگے حضرت زہراْ نے پلٹ کر حضرت علیْ کی طرف دیکھتے ہو ئے فرمایا یا ابن عم اب تک میں نے آپ کے گھر میں کبھی نہ جھوٹ نہ خیانت کی ہے بلکہ ہمیشہ آپ کے احکامات ور دستورات پر عمل کر نے کی کو شش کی ہے پھر بھی میری کو تاہیوں کو معاف کیجئے۔
روایت میں ہے کہ حضرت زہرا سلام اللّٰہ علیہا نے وصیت نامہ لکھوا یا حضرت علی علیہ السلام وصیت نامے کے کاتب تھے اور جناب مقداد اور زبیر اس کے گواہ تھے اس وصیت نامے کوجناب آیت اللّٰہ امینی نے اپنی کتاب میں اس طرح ذکر فرمایا ہے:
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
”یہ وصیت نامہ فاطمہ پیغمبر اکرم ۖکی دختر کا ہے میں خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتی ہوں اور گواہی دیتی ہوں کہ محمد ۖ خدا کے رسول ہیں بہشت اور
دوزخ برحق ہے قیامت کے واقع ہونے میں شک نہیں ہے اللّٰہ مردوں کو زندہ فرمائیگا یا علی اللّٰہ نے مجھے آپ کا ہمسر قرار دیا ہے تا کہ دنیا اور آخرت میں اکٹھے رہیں میرا اختیار آپ کے ہاتھوں میں ہے اے علی مجھے رات کو غسل وکفن دیجئے گا اور حنوط کر کے کسی کو خبر دیئے بغیر دفن کر دیجئے گا اب میں آپ سے وداع کر تی ہوں میرا سلام میری تمام اولاد کو پہنچا دیجئے گا (بحارالانوار جلد 43 نقل از کتاب فاطمہ زہرا مثالی خاتون)
ان وصیتوں کو بیان کر نے کے بعد امام حسن وامام حسین علیہما السلام والدہ گرامی کی یہ حالت دیکھ کر رونے لگے اسماء بنت عمیس آپ کی حالت دیکھ کر حضرت زہرا سلام اللّٰہ علیہا سے جدا نہیں ہو تی تھی حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہم حضرت زہرا سلام اللّٰہ علیہا کی روح پروازکرتے وقت آپ کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں جناب سیدہ نے آنکھیں کھولیں اور نگاہ اطراف پر ڈالی اور فرمایا السلام علیک یارسول اللّٰہ ۔
نیز حضرت علی نے فرمایا جناب سیدہ نے وفات کی رات مجھ سے فرمایا یا ابن عم جبرائیل ابھی مجھے سلام کر نے کے لئیے حاضر ہو ئے تھے اور اللّٰہ کے سلام کو عرض کرنے کے بعد کہا کہ اللّٰہ نے خبردی ہے کہ آپ عنقریب بہشت میں اپنے والد گرامی سے ملاقات کریں گی اس کے بعد حضرت زہراْ نے مجھ سے فرمایا
یاابن عم میکائیل ابھی نازل ہوئے تھے اور اللّٰہ کی طرف سے پیغام لائے یا ابن عم اللّٰہ کی قسم عزرائیل میری روح کو قبض کرنے کے لئے میرے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں اتنے میں آپ کی روح بدن سے پرواز کرگئی علی اور آل علی ماتم برپا کرنے لگے۔
(راقم الحروف )خدا یا تو ہی اعدل العادلین ہے حضرت زہراْ کو تکلیف دینے والے افراد کو کیفر کردار تک پہنچا دینا حضرت زہراْ کے واسطے سے دنیا اور آخرت میں ہمیں کامیابی عطا فرما عالم بے عمل کو ہدایت فرما۔(آمین)
تحریر: آیت اللّٰہ امینی
ننھے سے کرتوں کے ہیں گریبان چاک چاک
گیسو کھلے ہیں ڈالے ہوئے ہیں سروں پہ خاک
نزدیک ہے کہ والدہ کے غم میں ہوں ہلاک
جاری زبان پر یہی نوحہ ہے درد ناک
جاتی ہو تم نبیؐ کی زیارت کے واسطے
اماں غلام آئے ہیں رخصت کے واسطے
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکِ یَا مُمْتَحَنَۃُ، امْتَحَنَکِ الَّذِی خَلَقَکِ فَوَجَدَکِ لِمَا امْتَحَنَکِ صَابِرَۃً،
آپ پر سلام ہو اے آزمائی ہوئی ذات۔ آپ کے خالق نے آپ کا امتحان لیا تو اس نے آپ کو امتحان میں صبر کرنے والی پایا
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
