”تسبیحِ فاطمۃ الزہراٌ “
تسبیح سے عیاں شرفِ فاطمہؑ ہوا
ذکرِ خدا کا فاطمہؑ پر خاتمہ ہوا
(مرزا دبیر)
آقائے دو جہاں علیہ الصلوٰة والسلام نے بی بی معصومہ سیدہ النساء العالمینٌ سے فرمایا کہ میں تمہیں ایک بہت بہتر چیز دوں اور پھر فرمایا کہ ہر نماز کے بعد 33 دفعہ سبحان اللّٰہ، 33 دفعہ الحمدللّٰہ، 34 دفعہ اللّٰہ اکبر پڑھا کرو۔
تسبیحِ فاطمہْ سے فضائل و برکات کا حصول:
تسبیح فاطمہْ سے بہت سے فوائد و فضائل حاصل ہوتے ہیں۔ اگر دل کی سچی لگن کے ساتھ اس تسبیح کے خاص الفاظ ادا کیے جائیں تو بھرپور ثمرات و برکات کا حصول ممکن ہے۔
33 بار سبحان اللَّه :
33 بار سبحان اللَّه پڑھتے ہوئے ہر لفظ کی ادائیگی کے ساتھ اللَّه کا تصور قائم ہونا لازم ہے کہ اللَّه تُو ہی پاک ہے، بزرگی اور عظمت والا ہے۔ دل سے اللَّه کے ساتھ لَو لگاتے ہوئے سبحان اللَّه کے الفاظ ایسے ادا کریں کہ بیشک اللَّه تو پاک ہے ہر دکھ، تکلیف، غم، پریشانی، تھکان، بیماری سے۔ اور تُو اپنی اس صفت کے صدقے ہمیں بھی اس غم و اندوہ سے پاک کر دے کہ یہ بیماری، تھکان عیب ہیں اور تو ہر عیب سے پاک ہے۔ ہمیں بھی ان عیبوں سے پاک کر دے۔ اور یقین کے ساتھ فیض حاصل کریں
کہیں تُو پاک، تیرے نام و صفات پاک تو پاک کرنے والا، اور ہمیں یقین ہے کہ تُو نے ہمیں ہر تھکان اور غم و الم سے پاک کر دیا۔
33 بار الحمدللَّه:
33 بار الحمدللَّه پڑھتے ہوئے دل کو مضبوطی سے اللَّه کے ساتھ لگائے جب یہ الفاظ ادا کریں گے کہ اللَّه تٗو ہی لائقِ تعریف ہے تو اپنی صفات کے صدقے ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم نیک اور خوبصورت اعمال کریں۔ ہمارا ظاہر و باطن خوبصورت بنا دے کہ لوگ ہم پر اعتراض نہ کریں۔ بلکہ اچھے الفاظ میں یاد کریں۔
اے حمد و ثناء کے اکیلے وارث! ہمیں ایسا بنا دے کہ تیری مخلوق کے لیے بہتر ہو جائیں، کسی کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنیں کہ تیرے بندے ہمیں اچھے الفاظ میں یاد کریں، اے ہر تعریف کے لائق ذات! ہماری تعریف دراصل تیری ہی تعریف ہے کہ یہ صلاحیتیں بخشنے والا نیکی اور اچھائی کی طاقت بخشنے والا تٗو ہی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرتے ہوئے مضبوط احساس دل میں یقین بن کے دعا کی صورت اترتے جاتے ہیں، جن کی تاثیر جلد ظاہر ہوتی ہے۔
34 مرتبہ اللّٰہ اکبر:
اب جب 33 بار سبحان اللّٰہ اور 33 بار الحمدللّٰہ کہا
گویا اللّٰہ کے آگے عرضی پیش کی، درخواست گزار ہوئے، کہ ایسا ایسا کر دے۔ اب اللّٰہ اکبر کہتے ہوئے ہر دانے پہ اللّٰہ کے سب سے بڑا ہونے کا یقین دل میں اتارتے ہوئے کہ بیشک تُو ہی بڑا، سب اختیار تیرے، تُو ہی قادرِ مطلق کہ خدائی عاجز تیری شان و عظمت بیان کرنے سے کہ تُو ہی عطا کرنے والا، دلوں کو بدلنے والا، دلوں کو سکون بخشنے والا، تو شان و بڑائی میں سب سے معتبر کہ کوئی تیرے شایانِ شان نہیں۔ تُو ہی ہے جو سب کچھ کر سکتا ہے۔ بےشک تو ہی ہے جو سب کچھ کر سکتا ہے، یہاں دل سے پیش ہو کے دونوں درخواستوں پہ مِنت کرتے ہوئے، سب اختیارات کا مالک صرف اللّٰہ کو ہی دل سے تسلیم کرتے ہوئے اللّٰہ کو منانا ہوتا ہے کہ ہم بے بس، مجبور و لاچار ہیں، ہمارا کچھ اختیار نہیں کہ اپنے سب سے بڑا ہونے کی شانِ کریمی سے ہمیں پاک کر دے اچھا کر دے کہ بےشک تو سب کرنے پہ قادر ہے۔
تسبیح فاطمہؓ کے خاص عطا کیے ہر لفظ کو جب دل کی سچے احساس کے ساتھ ادا کیا جائے گا تو تب ہی تسبیحِ فاطمہؓ سے خاص تاثیر پانے کا حصول ممکن ہے۔
بہر نماز قوت کی تقلیل کرتی ہیں
تسبیح حق میں آپ کو تہلیل کرتی ہیں
(مرزا دبیر)
(یہ ہمارا اپنا تجربہ ہے کہ دراصل ہم سب نماز کے بعد ضرور پڑھتے ہیں لیکن وہ اتنی رفتار سے پڑھتے ہیں کہ شاید وہ الفاظ ہمیں خود بھی سمجھ میں نہ آئیں اس لئے ایک ایک دانے پہ آرام آرام سے توجہ کے ساتھ یہ سب سوچتے ہوئے پڑھنے کا اپنا ہی ایک مزہ ہوتا ہے لگتا ہے ہم اللّٰہ کے سامنے بیٹھے ہوئے اس سے باتیں کررہے ہیں
رسول اللّٰہ نے یہ کلمات تعلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ فاطمہ یہ تمھارے ہر درد کی دوا ثابت ہوں گے
(یہ حقیقت ہے اگر ہاتھ پہ پڑھتے ہوئے ہر ہر انگلی کے پور کو دبا دبا کے پڑھا جائے تو دن بھر کی تھکن ختم ہوجاتی ہے اور میڈیکلی بھی یہ بات ہے کہ انگلیوں کے ہر پور میں الگ الگ جسم کے حصے سے اٹیچمنٹ ہے اس کو دبانے سے تھراپی کی جاتی ہے)
پروردگار ہمیں عبادت کو سوچ سمجھ کے ادا کرنے کا سلیقہ عطا فرما
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
