قلبِ سلیم

قرآن مجید کے الفاظ میں سے ایک لفظ "قلب سلیم” ہے ،
یہ ایک انتہائی خوبصورت اور بامعنی لفظ ہے۔
لفظ "سلیم” ، "سلم” و "سلامت” سے ہے
اور اس کے معنی ظاہری و باطنی آفتوں سے دور رہنا ہے
[ راغب اصفهانی، مفردات الفاظ قرآن کریم، ماده "سلم”.]۔

قلب سلیم کی دلچسپ اور بہترین تعریف حضرت امام صادق{ع} نے کی ہے کہ فرماتے ہیں:
"وسُئل الإمام جعفر الصادق عن القلب السليم في الآية: إلاّ مَن أتى اللهَ بقلبٍ سليم، فقال: الذي يلقى ربَّه وليس فيه أحد سواه؛ وكلّ قلبٍ فيه شِرك أو شكّ فهو ساقط“
[ کلینی، کافی، ج 2، ص 16، دارالکتب الاسلامیة، تهران، 1368ھ ش.]
” یعنی، قلب سلیم، ایک ایسا دل ہے جو اپنے پروردگار سے اس حالت میں ملاقات کرتا ہے کہ اس کے سوا اس میں کوئی اور نہ ہو. کیونکہ دل کا شرک و شک سے پاک ہونا،”

عقل گو آستاں سے دور نہیں، اس کی تقدیر میں حضور نہیں
دل بینا بھی کر خدا سے طلب، آنکھ کا نور دل کا نور نہیں
( محمد اقبال )

ایک دوسری روایت میں امام صادق{ع} فرماتے ہیں:
صَاحِبُ اَلنِّيَّةِ اَلصَّادِقَةِ صَاحِبُ اَلْقَلْبِ اَلسَّلِيمِ لِأَنَّ سَلاَمَةَ اَلْقَلْبِ مِنْ هَوَاجِسِ اَلْمَحْذُورَاتِ بِتَخْلِيصِ اَلنِّيَّةِ لِلَّهِ تَعَالَى فِي اَلْأُمُورِ كُلِّهَا
[ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج 67، ص 210، موسسه الوفاء، بیروت، 2404 ھ.]
” جس کی نیت صادق ہو، وہ قلب سلیم کا مالک ہے، تمام چیزوں میں نیت کو خالص بناتا ہے۔”
کیونکہ تمام معاملات میں دل حفاظت کا ایک مرکز ہے۔

اس بنا پر امام صادق{ع} پاک اور خالص نیت رکھنے والوں کو قلب سلیم کے مالک جانتے ہیں۔
قلب سلیم کے بارے مِں اتنا ہی کافی ہے کہ قرآن مجید نے اسے قیامت میں نجات پانے کا تنہا سرمایہ شمار کیا ہے۔
چنانچہ سورہ "شعراء” میں ارشاد ہوا ہے:
"یوْمَ لا ینْفَعُ مالٌ وَ لا بَنُونَ* إِلاَّ مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلیمٍ”
” جس دن مال اور اولاد کوئی کام نہ آئے گا، مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللّٰہ کی بارگاہ میں حاضر ہو۔”
[ شعراء، 88، 89.]

قرآن مجید کے مفسرین نے بھی قلب سلیم کے لیے متعدد تفسیریں کی ہیں کہ ان میں سے ہر ایک میں اس مسئلہ کے ایک پہلو کی طرف اشارہ ہے:
1۔ قلب سلیم، وہ دل ہے جو شرک سے پاک ہو۔
2۔ قلب سلیم، وہ دل ہے جو گناہ ، کینہ اور نفاق سے پاک ہو۔
3۔ قلب سلیم، وہ دل ہے جو دنیوی عشق سے عاری ہو، کیونکہ دنیا کی محبت تمام خطاوں کا سرچشمہ ہے۔
4۔ سرانجام، قلب سلیم، وہ دل ہے، جس میں پروردگار کے سوا کوئی اور نہ ہو؛
جیسا کہ بیان کیا گیا، "سلیم”، مادہ "سلامت” سے ہے اور جب مطلق سلامت کی بات کی جاتی ہے تو سلامتی ہر قسم کی اخلاقی و اعتقادی بیماری سے سلامتی پر مشتمل ہوتی ہے۔
اس بنا پر قلب سلیم رکھنے والے کا دل اس دنیا میں بھی غیر خدائی امور سے خالی ہوتا ہے، کیونکہ نفسانی خواہشات، اقتدار کی پیاس، زیادہ خواہی، اخلاقی برائیاں وغیرہ جیسے امور قلب سلیم سے کوئی مناسبت نہیں رکھتے ہیں۔
مختصر یہ کہ قلب سلیم، ایک ایسا دل ہے، جس میں کسی قسم کی غیر خدائی وابستگی نہ پائی جاتی ہو اور وہ دل پروردگار کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہو۔ جیسا کہ ہم دعا میں پڑھتے ہیں:
” الهی هب لی كمال الانقطاع الیك”
(اقتباس)

یہی ہماری بھی دعا ہے کہ
” پروردگار؛ ہمیں تمام چیزوں سے رابطہ منقطع کر کے اپنی طرف پلٹنے کی سعادت عطا فرما۔”
آمین یا رب العالمین

یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں