” غلط بات کو آئمہ سے منسوب کرنا گناھانِ کبیرہ ہے “🙏🙏

”ایک عام کلیہ ہے کہ کفریہ و شرکیہ الفاظ کو نقل کرنا کفر اور شرک نہیں ہے۔ خود قرآن و حدیث میں بھی کفار و مشرکین کے کفریہ و شرکیہ کلمات نقل کئے گئے ہیں۔“
علاوہ ازیں علمائے کرام اور دینی اسکالرز بھی اپنی تحریروں اور تقریروں میں، جہاں انہیں ضرورت محسوس ہو، کفریہ و شرکیہ کلمات و خیالات کو ”نقل“ کرتے ہیں۔ یہی کام ادیب و شاعر بھی کرتے ہیں۔ لیکن دونوں کا انداز الگ الگ ہے۔
علماء اور اسکالرز کی تحریریں سادہ اور بیانیہ ہوتی ہیں۔ اور وہ جب بھی کسی کفری و شرکیہ خیالات و کلمات کو ”نقل“ کرتے ہیں تو
”صاف صاف“ لکھ دیتے ہیں کہ یہ اُن کے نہیں بلکہ فلاں اور فلاں کے خیالات ہیں۔

پچھلے دنوں ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مستند غیر مستند اور ضعیف و معتبر روایتوں کے ساتھ ساتھ کچھ گڑھی ہوئی روایات سننے کا موقع ملا باقی روایات تو ثقہ یا غیر ثقہ اور مرسل روایتوں میں کہیں نہ کہیں ذکر موجود ہے
لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ ایسی باتوں نے گردش کیا جن کی کوئی حقیقت نہیں ہے ہم کیونکہ غسل میت اور کفن وغیرہ اپنے سینٹر میں خود کرتے ہیں اس لئے ہمیں اچھی طرح پتہ ہے کہ کفن کیا واجب ہے اور کیا مستحب ہوتا ہے
دودن پہلے کا واقعہ ہے ہماری ایک بہت ہی پیاری اور سمجھدار بیٹی نے ایک پوسٹ لگائی کہ
((عزتِ نفس کی وجہ سے نام چھپائے گئے ہیں ))

” سات چادروں کا کفن
چالیس قبریں
دفنائی نہیں چھپائی گئی ہیں فاطمہْ“

ہم نے پوچھا یہ روایت کہاں سے آگئی سات چادروں کا کفن؟ چالیس قبروں کی روایتیں تو موجود ہیں سات چادروں کے کفن کا پتا ہے کیا ہوگا؟ لبھی سات چادریں ایک ساتھ رکھ کے دیکھا جائے۔ غلط باتیں پھیلانا گناھانِ کبیرہ میں ہے
جواب ملا ایک نامی گرامی ذاکرہ نے پڑھا ہے یہ۔۔ اور غالبا اور بھی جگہوں پہ ضرور پڑھا گیا ہوگا کیونکہ یہ جملے سوشل میڈیا پہ بہت چکر لگا رہے تھے
ہم نے کمنٹ کیا کہ ان سے حوالہ پوچھو کہاں سے لیا ہے؟ یہ روایت کہاں سے آگئی؟
بچی نے ان کا نام کمنٹ میں مینشن ( وہ انکی فرینڈ لسٹ میں تھیں ) کیا اور پوچھا کہ حوالہ دے دیں اسکا جو جواب ہمیں ملا وہ ایک ذاکر کی علمی صلاحیت کو واضح کرگیا۔
سب سے پہلے ان محترمہ نے ہمیں بلاک کیا تاکہ ہم ان کا جواب نہ دیکھ سکیں ہمیں جواب نظر نہیں آیا تو ہم نے وہیں پہ کہا کہ ہمیں بلاک کیا گیا ہے جس کو جواب نظر آرہا ہے وہ ہمیں بتادے کہ کیا جواب دیا گیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں اور ان کی عقلِ کامل پہ ماتم کرنے کا دل چاہا

انکا جواب تھا کہ
”مسئلہ 709: مسلمان میت کو تین کپڑے سے جس میں لُنگی، پیراہن اور چادر ہے کفن دینا ضروری ہے جس کو واجب کفن کے ٹکڑے کہا جاتا ہے۔
مزید فرمایا کہ مستحبات کفن برائے خواتین
سینہ بند، مقنعہ، چادر برائے یاسن
جریدتین ایک ذراع اور نیم میٹر چادر تاکہ خواتین کی میت مرد کی شباہت نہ دے“ **** یہ انکا کمنٹ تھا 👆👆

کفن کے مستحبات یہ ہیں👇👇
کفن میں واجب چادر کے علاوہ ایک اور پوری چادر باندھنا مستحب ہے اور اس میں افضل یہ ہے کہ یمن کی مخصوص چادر ہو بلکہ ایک تیسری چادر باندھنے کا استحباب خصوصا عورت کے لئے قوی ہے مرد کی میت کے لئے اس کے سر کے گرد اس طرح عمامہ باندھنا مستحب ہے کہ اس کے دونوں سرے گردن کے نیچے قراردے دئیے جائیں جب کہ عمامہ کا دایا سر ا سینے کی بائیں جانب اور دوسرا سرا سینے کی دائیں جانب چلا جائے اور خصو صا عورت کی میت میں عمامہ کی جگہ مقنعہ باندھنا مستحب ہے اسی طرح مستحب ہے کہ اس کی چھاتیوں پر سے ایک کپڑا کمر کے ساتھ باندھ دیا جائے (مراجع احکام )۔
اب ہمیں کوئی بتائے کہ کپڑے کے ٹکڑے جو کہ مستحبات میں آتے ہیں وہ چادر کیسے کہلائے جاسکتے ہیں؟
باخدا جنابِ سیدہٌ کو وہی کفن دیا گیا جو کہ مکمل ہوتا ہے اور مستحبات کی بھی پابندی کی گئی کیونکہ معصومین کے لئے مستحبات بھی واجب کی طرح ہوتے ہیں
ہمارے معصومین پہ غیروں نے جو کیا وہ کیا لیکن اس سے بڑا ظلم ان کے محب ان کے ساتھ کررہے ہیں سات چادروں کا ذکر کرکے کفن پہنانے والے ( امامِ متقین علیہ السلام ) پہ بہتان باندھا جارہا ہے کیونکہ جو کام کیا نہیں گیا اسکا ذکر کرنا بہتان لگانا ہوتا ہے

پروردگار ہمیں سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا فرما اور نااہل کو منبر کی زینت نہ بنا ہمارے منبر پہ اہل علم کو بیٹھا آمین یا رب العالمین
ہمیں کسی ابوہریرہ یا امِ ہریرہ کی ضرورت قطعا نہیں ہے
اگر کسی کو اس پوسٹ سے تکلیف ہوئی ہو تو معذرت
لیکن حق بتانا بہت ضروری ہے

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں