گفتار اور اخلاقی گفتگو:

ہمیں اپنے جملے اور الفاظ بولنے میں بہت احتیاط سے کام لینا چاہئے
اسکول میں اردو کی پہلی کتاب میں ایک جملہ پڑھایا جاتا تھا
پہلے تولو پھر بولو

بحث آپڑے جو لب سے تمھارے تو چپ رہو
کچھ بولنا نہیں تمھیں اس گفتگو کے بیچ
(میرتقی میر)

آیت اللّٰہ مجتهدی تهرانی فرماتے ہیں کہ:
ایک طالب علم فوت ہوگئے تھے کچھ مدت کے بعد ان کو خواب میں دیکھا ان سے پوچھا گیا: وہاں آپ کیسے ہیں؟
انہوں نے کہا: اپنے اعمال اور اپنی گفتار کی احتیاط کیا کریں.
کیونکہ؛ اللّٰہ تعالی کا حساب و کتاب بہت ہی دقیق ہے.
مزید کہا کہ: ایک دن بارش برس رہی تھی.
اور میں نے کہا واہ واہ کیا عجیب ہے کہ بے موقع بارش برس رہی ہے
میں ابھی تک اسی ایک جملے میں گرفتار ہوں.
مجھے کہا گیا ہے: کیا ہمارے پاس بے موقع بارش بھی ہے؟
(آداب الطلاب، آیت اللّٰہ مجتهدی تهرانی، صفحه 129 )

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
(علامہ اقبال)

قال الامام سجاد عليه‏ السلام :
اَ لْقَوْلُ الْحَسَنُ يُثْرِى الْمالَ وَ يُنْمِى الرِّزْقَ وَ يُنْسِئُ فِى الاَْجَلِ وَ يُحَبِّبُاِلَى الاَْهْلِ وَ يُدْخِلُ الْجَنَّةَ؛
حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:
اچھی اور نیک گفتگو دولت اور روزی کو زیادہ کرتی ہے ، موت کے دیر آنے کا موجب بنتی ہے، انسان کو اپنے خانوادہ میں محبوب بناتی ہے، اور بہشت میں جانے کا موجب ہے.
(خصال، ص ۳۱۷، ح ۱۰۰)

کام کرتے ہیں جتنا ہوتا ہے
بے سبب گفتگو نہیں کرتے
(منصور آفاق)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں