” زندگی یا موت “

اسلام کی نظر میں موت اختتام زندگی نہیں ہے بلکہ یہ زندگی کا ایک مرحلہ سے دوسرے مرحلہ میں منتقل ہونا ہے۔
اسلام کے نکتہِ نظر سے دیکھیں تو اللّٰہ نے اس دنیا کو آخرت کی تیاری کے لئے بنایا ہے۔

کتنا خوبصورت لائحہ عمل دیا گیا ہے کہ:
” موتوا قبل ان تموتوا “
مرنے سے پہلے مر جاؤ۔

انسان ”زندہ“ ہونے کے باوجود ” زندگی “ کو نہیں سمجھ سکتا تو
”مرے “ بغیر ” موت “ کو کیسے سمجھ سکتا ہے ـ

موت کا بھی علاج ہو شاید
زندگی کا کوئی علاج نہیں
(فراق گورکھپوری)

ریاضی میں مسئلہ حل کرنے کے لیے ” x “ کی قیمت فرض کی جاتی ہے تو مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔

اسی طرح ہم ”اپنا مرنا “ فرض کرلیں
تو پوری زندگی کا مسئلہ حل ہو جائے گا

آدمی مرنے کےبعد پچھتاتا ہے کہ فلاں کام نہیں کرسکے
فلاں قرضہ کی قیمت موجود ہونے کے باوجود ادائیگی نہ کرسکے
فلاں صلہ رحمی کے مواقع میسر ہونے کے باوجود انجام نہ دے سکے ۔

راہ حل : ہم اپنے آپ کی موت فرض کر لیں اور سب کام نمٹانے کے بارے میں سوچنا شروع کر دیں اور پروردگار سے دوبارہ زندگی کی درخواست فرض کر کے ہم سب کام نبٹانا شروع کردیں, اس طرح سب کام نبٹ جائے گا
کیونکہ جب حقیقی موت پہنچے گی پھر ہمیں فرصت نہیں ملے گی۔

پروردگار ہم کو موت و زندگی کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما
آمین یا رب العالمین

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

تبصرہ کریں