” آدابِ گفتگو “

”آدابِ گفتگو“

ادب واحترام، پسندیدہ گفتگو اورمؤثررابطے کی برقراری کی پہلی شرط شمارہوتی ہے ۔
اس کے برخلاف طعنہ دینا، بے ادبی اور بے حرمتی مخاطب کو نفسیاتی حالت میں مبتلا کردیتی ہے اوریہ امرحتمی صحیح بات کے تسلیم کرنے کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرنے کا باعث بنتاہے۔ اوربسا اوقات مخاطب کو مخاطب سے متنفراوراس کو مشتعل کرنے کا باعث بنتاہے ۔

مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت
دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے
(سردار جعفری)

اگر فریقِ مقابل جہاں حرمت و ادب کے پاس ولحاظ کا پابند نہ بھی ہو وہاں بھی خود مخاطب کو ادب و حرمت کا پاس ولحاظ کرنا ضروری ہے ۔

حضرت امام جعفرصادق (ع) اپنے مقابل فریق کی گفتگو غور سے سنتے تھے اوریہ فریق مقابل کا ادب واحترام کرنے کی دلیل ہے ۔
یہ امرفریق مقابل کے اعتماد کے حصول کا باعث بن سکتاہے۔
چاہے مناظرے میں بعض باتوں کو رد کیا جانا ہے لیکن یہ امر فریق مقابل کی تحقیر و توہین کی اجازت نہیں دیتا ۔
اگر ہم اپنی گفتگو میں سخت اور توہین آمیزلہجہ اختیارکریں
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پاس اپنی بات کے اثبات کے لئے دلائل و برہان میں کمی واقع ہوگئی ہے ۔
اور اپنی عقل وخرد سے استفادہ کی صلاحیت ختم ہوگئی ہے

ناصح تجھے آتے نہیں آداب نصیحت
ہر لفظ ترا دل میں چبھن چھوڑ رہا ہے

جہاں گفتگو میں ادب و احترام کے اصول کا لحاظ نہ کیا جائے
وہاں جہالت و ہٹ دھرمی رفتہ رفتہ منطق واستدلال کی جگہ لے لیتی ہے اور حق کے اثبات کے لئے گفتگو کرنے والے افراد دوسروں کا وقت اور ان کے حقوق پامال کرنا شروع کردیتے ہیں۔

محمد وآل محمد علیہم السلام کی پاکیزہ سیرت و حیات اس امر کی غماز ہے کہ یہ افراد بیانِ حقیقت اور تبلیغِ دین کی راہ میں ہمیشہ اپنے مخاطب کا ادب واحترام ضروری سمجھتے تھے اوراس کا پاس ولحاظ رکھتے تھے ۔
”اقتباس“

پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور
اسوۂ محمد وآل محمدٌ پہ چلنے کی راہ ہموار کرے
آمین یا رب العالمین

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں