”اپنی اصلاح یا دوسروں پہ تنقید“

ہمیں دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا ضروری ہے دنیا میں سب سے آسان کام دوسروں پہ تنقید کرنا ہے ہم اپنی غلطیوں کے بہترین وکیل اور دوسروں کے لئے جج بن جاتے ہیں
سقراط نے ایک بار کہا تھا کہ ”اچھے دماغ کے لوگ خیالات پر تنقید کرتے ہیں، جبکہ کمزور دماغ کے لوگ، لوگوں پر تنقید کرتے ہیں۔“ لگتا ہے سقراط کو شاید ہم لوگوں کے بارے میں اس وقت ضرور کوئی الہام ہوا ہوگا

پہلے ہر شخص گریبان میں اپنے جھانکے
پھر بصد شوق کسی اور پہ تنقید کرے
(مرتضی برلاس)

یہ کہاوت ہم سب نے سنی ہوئی ہے کہ
ایک استاد نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بغیر کوئی بات کیے بلیک بورڈ پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی اور کہا “تم میں سے کون ہے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر اسے چھوٹا کر دے”؟
استاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس بھی نہیں تھا۔ سوال ہی ایسا تھا۔ ساری کلاس سوچ میں پڑ گئی کیونکہ استاد نے ایک ناممکن بات کہہ دی تھی ، کلاس کے سب سے ذہین طالب علم نے کھڑے ہو کر کہا کہ
”جناب !! یہ ناممکن ہے ، لکیر کو چھوٹا کرنے کے لیے اسے مٹانا پڑے گا جو چھوئے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا اور آپ نے چھونے سے منع کیا ہے“۔باقی طلباء نے بھی سر ہلا کر اس کی تائید کی۔
استاد نے گہری نظروں سے طلباء کی طرف دیکھا اور کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر اس لکیر کے متوازی لیکن اس سے بڑی ایک اور لکیر کھینچ دی، جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ اب پہلے والی لکیر چھوٹی نظر آ رہی ہے۔
استاد نے اس لکیر کو چھوئے بغیر ، اسے ہاتھ لگائے بغیر اُسے چھوٹا کر دیا۔
اس کہاوت سے ہم نے اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق کہ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر، دوسروں پر تنقید کیے بغیر، اُن کو بدنام کیے بغیر، اُن سے حسد کیے بغیر، اُن سے آگے بڑھ جانے کا فارمولا چند منٹوں میں سیکھ لیا کہ
اپنے آپ کو اخلاق میں، کردار میں اور عمل سے دوسرے سے آگے بڑھا لیں تو ہم خودبخود دوسروں سے بڑے نظر آنے لگ جائیں گے۔
لیکن ہم میں سے اکثریت کا تو یہی خیال ہوتا ہے کہ جب تک دوسرے کو نیچا نہ دکھایا جائے اسوقت تک ہم کسی سے بڑے نظر آہی نہیں سکتے۔
ہو سکتا ہے کہ ہم میں سے کچھ کی نیت دوسرے کو نیچا دکھانے کی حقیقتاً نہ ہو مگر بالواسطہ یا بلاواسطہ ایسا عمل سرزد ہو ہی جاتا ہے۔ دانستہ طور پہ تو لوگ کرتے ہی ہیں۔
یہ بھی ایک طرح کا خناس ہوتا ہے جو بعض لوگوں میں بلاوجہ ہوتا ہے۔ بعض کے تو وقت کے ساتھ نکل جاتا ہے مگر بعض کے تا دمِ مرگ بھی نہیں جاتا۔
جو وقت دوسروں پہ تنقید کرنے میں گزارتے ہیں وہی وقت خود کو سنوارنے میں گزاریں، کسی کو بدلنا اختیار میں نہیں لیکن خود کو بدلنا ہمارے اختیار میں ہے۔ ہم دنیا کو نہ بدلیں خود کو بدلیں، سب بدل جائے گا۔
خود اپنی ذات پہ تنقید کے مرادف ہے
کسی کے سامنے دانستہ آئینہ رکھنا
(جمیل نظر)

کاش کہ ہم اس فارمولے کو سنجیدگی سے سمجھ سکیں اور اس پہ عمل بھی کر سکیں۔ آمین یا رب العالمین

“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
“التماسِ دعا "
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں