” سورہ الفاتحہ/ سورہ الحمد میں الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کی تکرار“

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾
بنام خدائے رحمن رحیم (1) جو رحمن رحیم ہے(3)

ہر کام کی ابتدا میں اپنے مہربان معبود یعنی اللّٰہ کا نام لینا آداب بندگی میں سے ہے۔

سرِ آغاز سخن نامِ کریم است
خداوندی که رحمان و رحیم است
به یادش دلِ شود پیوسته آرام
ولو دریای درد و غم عظیم است

جب ہم قرآن پڑھنا شروع کرتے ہیں تو اللّٰہ کی جن صفات عالیہ سے ہم سب سے پہلے روبرو ہوتے ہیں، وہ ’الرَّحۡمٰنِ‘ اور’الرَّحِیۡمِ‘ ہیں۔ مسلمان قرآن کی آیت ”بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ“ کو اتنی بار دہراتے ہیں جتنی بار شاید ہی کسی دوسری آیت کو دہراتے ہوں گے۔ پھر ان صفات کے مماثل اللّٰہ کی دوسری بہت ساری صفات جیسے غفار، ستار، توّاب وغیرہ سے بھی ہیں ، جن سے تلاوت قرآن کے دوران گاہے بگاہے سابقہ پڑتا رہتا ہے۔ لیکن اللّٰہ کی صفت رحمت اس قدر وسیع و ہمہ گیر ہے کہ تنہا ایک لفظ اس کا احاطہ نہیں کرسکتا تھا ، اس لیے خود اللّٰہ نے اس کے لیے دو لفظ الرَّحۡمٰنِ اور الرَّحِیۡمِ کا انتخاب کیا۔
الرَّحۡمٰنِ سے رحمت کی عمومیت اور الرَّحِیۡمِ سے رحمت کا لازمۂ ذات ہونا، رحمن کے صیغۂ مبالغہ ہونے اور رحیم کے صفت مشبہ ہونے سے ظاہر ہے۔
اللّٰہ کے اوصاف میں الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔
اللّٰہ کی رحمانیت سب کے لئے ہے، جب کہ اس کی رحیمیت صرف مؤمنین کے لیے ہے۔
مخفی نہ رہے کہ بِسۡمِ اللّٰہِ میں الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کے ذکر کے بعد اس مقام پر دوبارہ تذکرہ بے جا تکرار نہیں بلکہ بِسۡمِ اللّٰہِ میں اس کا ذکر مقام الوہیت میں ہوا تھا، جب کہ یہاں مقام ربوبیت میں الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ کا تذکرہ ہو رہا ہے۔
ان دونوں کے معنی واحد نہیں ہوسکتے کیونکہ اگر ایسا ہو تو ایک معنی کو دو لفظوں میں دہرانے کا کوئی مقصد ہی نہیں بنتا، لہذا دونوں میں فرق پایا جاتا ہے،
1۔ رحمن، رحمت کی کثرت اور فراوانی کے معنی میں ہے، جب کہا جاتا ہے: رحمن، تو اس کا مطلب "کثیرالرحمۃ” اور "وسیع الرحمۃ” ہے اور رحیم، "دائم الرحمۃ” کے معنی میں ہے۔
جب ان دو خصوصیات کو مدنظر رکھا جائے تو رحمن یعنی "کثیرالرحمۃ” مومن کو بھی شامل ہوتا ہے اور کفار کو بھی، لیکن رحیم یعنی "دائم الرحمۃ” صرف مومنین سے مختص ہے۔ نیز "کثیرالرحمۃ” یعنی اللّٰہ کی رحمت کائنات کی سب مخلوقات کو شامل ہوتی ہے، نہ صرف مادیات کو، بلکہ مجرّدات کو بھی جیسے ملائکہ،
اور رحیم یعنی دائمی رحمت جو مومن انسانوں سے مختص ہے۔
۲۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ رحمن دنیا سے مختص ہے اور رحیم آخرت سے مختص ہے (البتہ یہاں پر کچھ سوالات پیش آتے ہیں، لیکن ایک طرح سے یہ مطلب حاصل کیا جاسکتا کہ) رحمن دنیا میں "کثیرالرحمۃ” کے معنی میں ہے اور اس رحمت کا تسلسل آخرت سے متعلق ہے۔
ایک مسلمان اپنی زندگی میں سب سے زیادہ مرتبہ اللّٰہ کی انہیں دوصفات کا ورد کرتا ہے کیونکہ اللّٰہ نے قرآن کی ترتیب کچھ اسی طرح رکھی ہے۔بسم اللّٰہ میں بھی یہی دو صفات ہیں اورسورہ فاتحہ میں بھی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ انسان کو فطر ت کے سخت ترین قوانین سے ہر وقت واسطہ پڑتا رہتا ہے،
فطرت کسی پر رحم نہیں کھاتی،سردی اور گرمیاں نہیں دیکھتیں کہ کون ہلاک ہورہا ہے ،معصوم یا بوڑھا۔
وہ جس کو زیادہ کمزور پاتی ہیں اسی کو پہلے ہلاک کر ڈالتی ہیں، یہی حال فطرت کے تقریبا تمام اصولوں اور قوانین کا ہے۔
ایسی صورت حال میں فطرت کے ساتھ رات دن رابطے میں رہنے والے انسان کے دل میں خالق فطرت کے حوالے سے بھی یہ خیال جاگزیں ہوسکتا تھا کہ خود خالق فطرت بھی محض قہار و جبروت ہے، شاید اسی خیال کے بند کے توڑنے کے لیے اللّٰہ نے مومنوں کی زبان پر الرَّحۡمٰنِ و الرَّحِیۡمِ کے الفاظ ہمہ وقت کے لیے جاری فرما دیئے۔ اب ایک مسلمان اٹھتے بیٹھتے، کام کرتے اورقرآن و نماز پڑھتے ہوئے ہر وقت اللّٰہ کی صفات الرَّحۡمٰنِ و الرَّحِیۡمِ کا ورد کرتا رہتا ہے۔ اور دل وزبان سے یہ اقرار کرتا ہے بلکہ اعلان کرتا ہے کہ بظاہر جو نظر آتا ہے وہ نہیں ہے۔
فطرت کی تعزیریں خواہ کتنی بھی سخت کیوں نہ ہوں، خود خالق کائنات کی بنائی ہوئی جہنم بھی خواہ کتنی ہی ہولناک کیوں نہ ہو مگر اللّٰہ فی نفسہ الرَّحِیۡمِ و الرَّحۡمٰنِ ہے۔اور جو کچھ بظاہر سخت نظر آرہا ہے وہ بھی صفت الرَّحۡمٰنِ ہی کا مظہر ہے۔
اللّٰہ کی رحمت سے وہ لوگ بہرہ مند ہو سکتے ہیں جو اس کے بندوں پر رحم کرتے ہیں۔ اِرْحَمْ تُرْحَمْ ۔
(اقتباس)
‎وہ اللّٰہ جو لائق حمد و ثنا ، سرچشمۂ تربیت و ارتقا اور صفت رحمانیت و رحیمیت سے متصف ہے، عالمین کا مالک اور قادر و قہار ہونے کے باوصف رحمن و رحیم بھی ہے۔

۱۔ اللّٰہ تعالیٰ الوہیت کے ساتھ ساتھ ربوبیت میں بھی رَّحۡمٰنِ وَ رَّحِیۡمِ ہے۔
۲۔ دوسروں پر رحم کر کے ہی رحمت خداوندی کا اہل بنا جا سکتا ہے۔
(تفسیرالکوثر اور درس تفسیر استاد حاج سید مجتبي نورمفیدي سے ماخوذ )

“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
“التماسِ دعا "
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں