الإمام محمد الباقر (عليه السلام):
”مَنْ أتَمَّ رُكُوعَهُ لَمْ تُدْخِلْهُ وَحْشَةُ الْقَبْر“ِترجمہ: جو اپنی نماز کا رکوع مکمل اور صحیح طور پر انجام دے
وہ قبر میں وحشت سے دوچار نہ ہوگا۔
( ورواه الصدوق في ثواب الأعمال: ص 55 (باب من أتم ركوعه)، ح 1. ونقله عن البحار: ج 85، ص 107، ح 15)
رکوع عبودیت کی علامت اور نماز کے عنوان سے قرآن میں دس مرتبہ اس کا تذکرہ آیا ہے۔جیسے:
یا أَیهَا الَّذینَ آمَنُوا ارْکعُوا وَ اسْجُدُوا وَ اعْبُدُوا رَبَّکمْ وَ افْعَلُوا الْخَیرَ لَعَلَّکمْ تُفْلِحُونَ※
اے صاحبان ایمان! رکوع کرو،سجدے کرو، اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور نیک کام انجام دو شاید تم فلاح پا جاؤ۔ (الحج/77)
ہر نماز میں قرآت کے بعد اور سجدوں سے پہلے رکوع کو ادا کیا جاتا ہے ۔ رکوع نماز کے واجب جزو کے علاوہ نماز کے ارکان میں سے بھی ہے لہذا عمداً یا سہواً اس کا چھٹ جانا نماز کے بطلان کا باعث بنتا ہے ۔ نماز یومیہ اور نوافل کی ہر رکعت میں اسے ایک مرتبہ انجام دیتے ہیں۔لیکن نماز آیات کی ہر رکعت میں پانچ مرتبہ انجام دیتے ہیں ۔
رکوع کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ نماز میں قیام کی حالت سے رکوع کی نیت کے ساتھ اس قدر جھکیں کہ ہمارے ہاتھ دونوں گھٹنوں کے برابر پہنچ جائیں (خواتین کے لئے اتنا جھکنا ضروری نہیں ہے )۔
بعض فقہا کے نزدیک گھٹنوں پر ہاتھ رکھنا ضروری ہے ۔[العروة الوثقی،2/539.]
مذکورہ حالت میں بدن کے سکون اختیار کرنے کے بعد رکوع کے ذکر صحیح عربی زبان میں کوئی بھی ذکر کریں ۔
احتیاط واجب کی بناپر کم از کم ایک مرتبہ سُبْحانَ رَبِّیَ الْعَظیمِ وَبِحَمْدِهِ یا تین مرتبہ سُبْحانَ اللّٰہ پڑھنا ضروری اور واجب ہے ۔[توضیح المسائل مراجع][جفی ،جواہر الکلام 10 ص 89 ]
جان بوجھ کر سکون اور طمانیت کی حالت کے بغیر ذکر رکوع پڑھنا نماز کے باطل ہونے کا موجب بنتا ہے لیکن اگر بھول کر ایسا ہو جائے تو نماز صحیح ہے۔ اگر رکوع میں سر اٹھانے سے پہلے یاد آ جائے کہ حالت سکون میں ذکر نہیں پڑھا تو دوبارہ سکون کی حالت میں ذکر دوبارہ پڑھیں۔
یہی دعا ہے کہ پروردگار:
تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے شعور سجدہ، رکوع نہیں ہے
یہ سر ترے آستاں سے پہلے کسی کے آگے جھکا نہیں ہے
(شاعر:رفیق راز)
(مصرعے میں ردوبدل پہ معذرت)
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
“التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
